عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سرکاری و نجی ملازمین کیلئے تین دن چھٹی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کو 5 ستمبر بروز جمعہ، عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر تین دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی جائے گی۔
یہ چھٹی ہفتے اور اتوار کے سرکاری ویک اینڈ کے ساتھ مل کر طویل ویک اینڈ میں تبدیل ہو جائے گی۔
اس سے قبل حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بھی 5 ستمبر کو تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ملازمین کو تین روزہ چھٹی حاصل ہوگی۔
اماراتی فلکیاتی مرکز کے مطابق ربیع الاول کا چاند 23 اگست کو نظر نہ آنے کے بعد یہ طے پایا کہ ماہِ صفر 30 دن کا ہوگا، جبکہ ربیع الاول کا آغاز 25 اگست سے ہوگا۔ اس حساب سے 12 ربیع الاول 5 ستمبر کو ہوگا۔
#BreakingNews UAE private sector to get 3-day paid holiday for Prophet's birthdayhttps://t.
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال سعودی عرب اور یو اے ای میں میلاد النبی ﷺ مختلف دنوں پر منایا جائے گا، کیونکہ سعودی عرب میں چاند ایک دن پہلے دیکھا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔