دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ اگلے 48 گھنٹوں کے لیے اونچے اور انتہائی درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ بھارت سے آنے والے پانی نے ندی نالوں میں شدید طغیانی پیدا کی، درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع، ہزاروں ایکڑ فصلیں اور مکانات زیر آب آ گئے۔
شکرگڑھ میں 20 سے 25 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔ سیالکوٹ میں 24 گھنٹوں میں 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، 11 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ شہر کے بیشتر علاقے ڈوب گئے، بجلی معطل، نظام زندگی مفلوج۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ گلیشیئرز پھٹنے کی صورت میں تباہی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے اور آئندہ سال شدت میں 22 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بہاولنگر سے 89 ہزار 868 اور قصور سے 14 ہزار 140 افراد کو نکالا گیا۔ اوکاڑہ، بہاولپور، وہاڑی اور پاکپتن میں بھی انخلا جاری ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ ایک لاکھ 95 ہزار کیوسک، راوی میں جسڑ پر 90 ہزار اور شاہدرہ پر 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اب تک ایک لاکھ 74 ہزار 74 افراد محفوظ مقامات پر پہنچائے گئے ہیں۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب کے مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ نالہ ڈیک میں بھی شدید طغیانی ہے۔
آئندہ 24 گھنٹوں میں لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی ڈویژن، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ سیالکوٹ میں بارش کے باعث ریلوے ٹریک اور بیشتر علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ شہر مکمل تاریکی میں ڈوبا رہا اور کاروبار زندگی معطل رہا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔