پنجاب میں شدید سیلابی صورتحال، فوج طلب
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع کو انتہائی بلند سیلابی خطرہ لاحق ہے، بھارت کی جانب سے ڈیموں کے دروازے کھولنے اور موسلادھار بارشوں نے دریاؤں کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122، پولیس اور سول ڈیفنس پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں لیکن صورتحال کی سنگینی کے باعث وسائل ناکافی ہیں۔
حکام کے مطابق صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے اور نشیبی علاقوں کو خالی کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں مزید موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔
دریاؤں کی صورتحالدریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، دریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 26 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، اسی دریا کا حفاظتی بند شکرگڑھ کے قریب بھیکو چک پر ٹوٹ گیا، جس سے ہریالی، ممکہ، نوشہرہ اور دیگر علاقے زیرِ آب آ گئے۔
دریائے چناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال۔ دریائے چناب میں مرالہ پر 6.
— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) August 26, 2025
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقامات پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس کی گنجائش ساڑھے 11 لاکھ کیوسک ہے۔ گوجرانوالہ کمشنر نوید حیدر شیرازی کے مطابق اگر بہاؤ ساڑھے 10 لاکھ کیوسک سے بڑھا تو شگاف ڈالنے کے لیے پہلے سے اہداف مقرر کر لیے گئے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
نقصانات اور متاثرہ علاقےسیلابی ریلوں نے نارووال، سیالکوٹ اور شکرگڑھ کے نشیبی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، ظفر وال کے قریب نلہ ڈیک کے دباؤ سے ہنجلی پل گرنے سے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامے والی میں کھڑی فصلوں، سرکاری اسکولوں اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ادھر دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر ڈھائی لاکھ کیوسک سے زائد پانی موجود ہے جو آئندہ بارشوں کے باعث مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے اور فصلیں برباد ہو رہی ہیں۔
فوج اور ریسکیو آپریشنپنجاب حکومت نے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122، پولیس اور سول ڈیفنس پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں لیکن صورتحال کی سنگینی کے باعث وسائل ناکافی ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کی مدد سے دیہات کے باسیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ اب تک ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے بعد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جہاں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اگلے 48 گھنٹے نہایت اہماین ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق تھیئن ڈیم 97 فیصد بھر چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید پانی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اگر بھارت کی جانب سے اضافی تین لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا تو پنجاب کے مزید اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ دریاؤں کے حفاظتی پشتے کسی بھی وقت دباؤ برداشت نہ کر پائیں تو بڑے پیمانے پر انخلا درکار ہوگا۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور فوری محفوظ مقامات پر منتقلی کی ہدایات دی گئی ہیں۔
حکومتی اقدامات اور جانی نقصانوزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس میں حکام کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں اور خوراک، خیمے اور ادویات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مون سون سیزن میں اب تک 802 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد اموات اگست میں رپورٹ ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مشرقی دریاؤں میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بارشیں اور گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بڑھ گئی ہے، جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ستلج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ستلج لاکھ کیوسک کے مطابق کیوسک سے کے باعث
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔