عالیہ بھٹ اپنے بنگلے کی ویڈیو وائرل ہونے پر برہم ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
بالی ووڈ اسٹار عالیہ بھٹ نے گھر کی ویڈیو وائرل ہونے کو پرائیویسی کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
اداکارہ عالیہ بھٹ نے حال ہی میں اپنی اور رنبیر کپور کی رہائش گاہ "کرشنا راج بنگلہ" کی بغیر اجازت بنائی گئی ویڈیو وائرل ہونے پر شدید ردِعمل دیا ہے۔ یہ بنگلہ ممبئی کے علاقے پالی ہل میں واقع ہے اور گزشتہ 5 سال سے زیر تعمیر ہے تاہم اب کہا جارہا ہے کہ یہ تیار ہوگیا ہے اور اداکارہ اپنے خاندان کے ہمراہ اس میں شفٹ ہونے والی ہیں۔
حال ہی میں 250 کروڑ مالیت کے اس 6 منزلہ بنگلے کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگی، جس پر عالیہ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام کے ذریعے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Alia Bhatt ???? (@aliaabhatt)
اداکارہ نے کہا کہ ذاتی رہائش گاہ کی بغیر اجازت ویڈیو بنا کر وائرل کرنا نہ صرف پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ سیکیورٹی کا بھی سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے میڈیا اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسی ویڈیوز فوری طور پر ہٹا دی جائیں یہ کانٹینٹ نہیں کسی کی ذاتی چیز ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اداکارہ کے اس پیغام پر ملا جلا ردعمل دے رہے ہیں کچھ نے عالیہ کی حمایت کی جبکہ بعض نے ان پر سابقہ مواقعوں پر پاپارازی کو مدعو کرنے کا الزام بھی لگایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔