سب سے مہنگی انگوٹھی کس سیلیبرٹی کے پاس ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
نیویارک (شوبز ڈیسک) امریکی پاپ اسٹار ٹیلر سوئفٹ اور فٹبالر ٹریوس کیلسی کی منگنی نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ ٹیلر سوئفٹ کی انگیجمنٹ رنگ دنیا کی مہنگی ترین سیلیبرٹی رنگز کی فہرست میں کہاں آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس انگوٹھی کی مالیت 5 لاکھ ڈالر سے 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہے۔
دنیا کی چند مشہور اور مہنگی ترین انگیجمنٹ رنگز کی فہرست میں درج ذیل نام نمایاں ہیں:
ماریا کیری: 35 قیراط کی انگوٹھی، قیمت تقریباً ایک کروڑ ڈالر۔
الزبتھ ٹیلر: 33.
کرسٹیانو رونالڈو نے جارجینا روڈریگز کو 37 قیراط اوول شیپ رنگ دی، قیمت 5 کروڑ ڈالر۔
جیف بیزوس نے لارن سینچیز کو 30 قیراط پنک ڈائمنڈ دیا، قیمت 30 سے 50 لاکھ ڈالر۔
گُچی مین نے اپنی اہلیہ کو 60 قیراط ہیرے کی انگوٹھی دی، مالیت تقریباً 10 لاکھ ڈالر۔
جارج کلونی نے امل کلونی کو 7 قیراط ایمرلڈ کٹ ڈائمنڈ دیا، قیمت 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر۔
کرسچن مک کیفری نے اولیویا کلپو کے لیے 3 اسٹون اوول کٹ رنگ تیار کروائی، قیمت تقریباً 6 لاکھ ڈالر۔
گوین اسٹیفانی کو 8 قیراط ڈائمنڈ رنگ ملی، قیمت 5 لاکھ ڈالر۔
لیڈی گاگا کو 6 قیراط دل نما ڈائمنڈ دیا گیا، مالیت تقریباً 5 لاکھ ڈالر۔
کیٹ مڈلٹن کو 12 قیراط نیلا سیفائر ملا، قیمت 5 لاکھ ڈالر۔
میگھن مارکل کی انگوٹھی میں لیڈی ڈیانا کے کلیکشن سے پتھر شامل، مالیت تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر۔
اسکارلٹ جونسن کی انگیجمنٹ رنگ کی ابتدائی مالیت 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر تھی، جو اب دوگنی ہوچکی ہے۔
ٹیلر سوئفٹ کی انگوٹھی اگرچہ منفرد اور قیمتی ہے لیکن مہنگی ترین انگوٹھیوں کی فہرست میں اوسط درجے پر شمار کی جا رہی ہے۔ شوبز مبصرین کے مطابق سوئفٹ کی رنگ زیادہ تر شاہی یا ارب پتی شخصیات کی انگوٹھیوں کے مقابلے میں مالی اعتبار سے کم قیمت ہے، تاہم مداحوں کے لیے اس کی حیثیت بے حد خاص ہے۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی انگوٹھی لاکھ ڈالر
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔