راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی میں اضافہ، اونچے درجے کا سیلاب، ہائی الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
لاہور(ویب ڈیسک)دریائے راوی میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے پر شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آگیا، پانی کا بہاؤ ایک لاکھ55ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے، نشیبی علاقوں میں سیلاب کا شدید خطرے کے باعث ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
کمشنر لاہور کا کہنا ہے دریائے راوی میں پانی کی گنجائش 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے، ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ سمیت تمام محکموں کی تیاریاں مکمل ہیں، ممکنہ خطرے والے علاقوں سے مکینوں کا انخلا جاری ہے۔
جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 66 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ، سائیفن کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اونچے درجے میں تبدیل ہوگیا، پانی کا بہاؤ 99ہزار700 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، شاہدرہ کے مقام پر بھی پانی کی سطح مزید بلند ہوگئی، پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 3ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔
نشیبی علاقوں میں سیلاب کا شدید خطرہ بڑھ گیا، ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا، دریائے راوی کا پانی کرتار پور کوریڈور میں داخل ہوگیا، پنجاب رینجرز نے پانی میں پھنسے 200 سے 300 افراد کو ریسکیو کرلیا، سلیمانکی میں محصور 35 افراد اور ان کے مال مویشی کو بھی ریسکیو کرلیا گیا۔
پنجاب رینجرز کا دیگر اداروں کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ سرحدی علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری رہا، نارووال روڈ بھی سیلاب کی زد میں آگئی، شکر گڑھ شاہراہ ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی۔
شکر گڑھ میں کوٹ نیناں کے مقام پر دریائے راوی میں 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزرا، درجنوں دیہات زیرآب آگئے، شکر گڑھ بھیکو چک کے مقام پر بند میں شگاف پڑ گیا، متاثرہ دیہات سے لوگوں کی نقل مکانی کرگئے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پانی کا بہاؤ دریائے راوی کے مقام پر راوی میں
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور