عدالت کا اداکارہ ثمر رانا کو گھریلو ملازمہ زیادتی اور تشدد کیس میں فوری رہا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
لاہور کی مقامی عدالت نے گھریلو ملازمہ تشدد و جنسی زیادتی کیس میں اداکارہ ثمر رانا کو ڈسچارج کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چودہ سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد و جنسی ذیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب مقامی عدالت نے گرفتار ملزمہ اداکارہ ثمر رانا کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ زیب شہزاد چیمہ نے ثمر رانا کو فوری رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے میں ملزمہ کو عدالت پیش نہ کرنے پر تفتشی افسر کے خلاف کاروائی کی جائے۔
آج ہونے والی سماعت میں پولیس کی جانب سے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس کو عدالت نے مسترد کیا اور ریمارکس دیے کہ غیر ضروری طور پر مکینیکلی کسی بھی ملزم کا ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا،
عدالت نے ریمارس دیے کہ ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جس میں ملزمہ ثمر رانا کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں ہے۔ عدم ثبوت کی بنیاد پر ملزمہ ثمر رانا کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔
اسٹیج اداکارہ ثمر رانا کو انویسٹی گیشن پولیس نواب ٹاؤن نے عدالت پیش کیا تھا۔
اس سے قبل ایف آئی آر میں لکھا گیا تھا کہ ثمر رانا کے گھر پر کام کرنے والی 14 سالہ لڑکی کو پانچ افراد نے مبینہ ذیادتی کا نشانہ بنایا اور اداکارہ نے ملازمہ کو تشدد کر کے خوفزدہ کیا تھا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: اداکارہ ثمر رانا کو عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔