ترک وزیر ٹرانسپورٹ پر تیز رفتار گاڑی چلانے پر جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
ترکیہ کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر عبدالقادر یورالوغلو پر تیز رفتار گاڑی چلانے پر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالقادر یورالوغلو نے اپنی خود کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس میں انہیں ہائی وے پر انتہائی تیز رفتار تقریباً 225 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس ویڈیو کو #TurkiyeAccelerates ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کیا گیا جس کا مقصد انقرہ نیغے موٹر وے کے حالات کی جانچ بتائی گئی۔
بعد ازاں ٹریفک پولیس نے انہیں اس رفتار کی خلاف ورزی پر 9,267 ترک لیرا کا جرمانہ عائد کیا۔ یورالوغلو نے بعد میں سوشل میڈیا پر جرمانے کی تصویر بھی شیئر کی اور کہا کہ میں نے اپنی قوم کو خود نشاندہی کی ہے۔ آئندہ میں زیادہ احتیاط سے کام لوں گا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ ترک وزیر نے اپنی تیز رفتار ڈرائیونگ کی ویڈیو خود شیئر کی جس میں وہ تقریباً دوگنی رفتار پر گاڑی چلا رہے تھے۔ ترک وزیر نے خود تسلیم کیا کہ ویڈیو کے ذریعے انہوں نے اپنی خلاف ورزی کا اظہار کیا اور عوام سے معذرت بھی کی۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر تنقید اور طنز کی لہر چھیڑ دی، خاص طور پر کیونکہ ایک ٹریفک سے متعلقہ وزیر نے خود تیز رفتاری کی مخالفت کی اور خود اس کا ارتکاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
شانگلہ+ گلگت (نامہ نگار+ ایجنسیاں) شانگلہ کے علاقے رحیم آباد باسی میں کچے مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں چھ بچے جاں بحق ہوگئے ۔ریسکیو حکام کے مطابق مکان کے ملبے تلے دب کر 6 بچے‘ کوہستان کے مقام پر گاڑی کھائی میں گرنے سے 6 مسافر جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں اور 2 بچے شامل ہیں، جن کی عمریں 4 سے 15 سال کے درمیان تھیں، ایک بچی کو زندہ نکال لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں سکردو سے راولپنڈی جانے والی ایک مسافر گاڑی پٹن کوہستان کے علاقے میں کھائی میں گر گئی۔اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب سکردو میں ہی دیوسائی روڈ کی بندش کی وجہ سے سیکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سڑک کا ایک حصہ پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا جس کے بعد سے یہ اہم راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکا ہے۔ پورے علاقے کا رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کا اپنے پیاروں سے رابطہ کرنا ناممکن ہو گیا۔ سکردو گلگت روڈ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے کے سبب پٹرول کی سپلائی متاثر ہوگئی۔ ہیوی مشینری کے ذریعے راستہ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں، قلت کے باعث کئی پیٹرول پمپس بند ہوگئے۔