فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی نگرانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں فوجی دستے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے فوجی جوانوں کے کردار کو سراہا اور متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ ریلیف اور بحالی کے اقدامات جاری رہیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں پاکستان میں فوج بحران کے وقت سول انتظامیہ کی معاونت کرتی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اواخر سے فوج کو ریاستی اداروں کو سنبھالنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بارہا متحرک کیا گیا ہے۔
عاصم منیر نے سکھ برادری کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ان کے مذہبی مقامات کو اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔ پنجاب میں سکھ مذہب کا تاریخی وجود موجود ہے، حالانکہ آج یہ کمیونٹی تعداد میں محدود ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق سکھ مت کے کئی اہم مذہبی اور ثقافتی مقامات پاکستان خصوصاً پنجاب میں واقع ہیں۔
????فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، رہائی و امدادی کاموں پر افواج اور سول انتظامیہ کو سراہا۔ سکھ برادری کو یقین دہانی: مذہبی مقامات اصل حالت میں بحال ہوں گے۔ pic.
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) August 29, 2025
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔