WE News:
2026-06-03@04:48:29 GMT

سیلاب کے پنجاب سے گزر کر سندھ میں داخل ہونے پر کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

سیلاب کے پنجاب سے گزر کر سندھ میں داخل ہونے پر کیا ہوگا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں لیکن یہ پانی ممکنہ طور پر 2 ستمبر  کو سندھ میں داخل ہو جائے گا، پنجاب کی صورت حال دیکھ کر سندھ میں پریشانی پائی جاتی ہے کیوں کہ 2010 کا سیلاب ہو یا 2022 کا، اس نے نہ صرف سندھ میں تباہی مچائی تھی بلکہ اس کے متاثرین کی مکمل بحالی اب تک نہیں ہو پائی۔

ممکنہ سیلاب کے پیش نظر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایک بار پھر 2010 اور 2022 والی صورتحال پیدا ہوجائے گی یا پھر صورت حال اس سے بہتر یا بدتر ہوگی، سندھ میں سیلابی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ماہرین حفاظتی انتظامات کو دیکھ کر اور سیلاب کا دریاؤں کے راستے سفر کرنے پر مطمئن دکھائی دے رہے ہیں لیکن پھر بھی اگر کوئی بند ٹوٹ جاتا ہے یا پانی دریا سے نکل کر زمین کا رخ کرتا ہے تو کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟

جیوگرافک انفارمیشن سسٹم اسپیشلسٹ عائشہ عزیز کا کہنا ہے کہ ہمارا کام سیلاب یا قدرتی آفات پر نظر رکھنا ہوتا ہے، اگر ہمیں کسی علاقے کے بارے میں سگنلز ملیں تو ہم اس علاقے میں فوری اقدامات اٹھاتے ہیں تا کہ نقصانات کم سے کم ہوں اس سارے معاملے میں دیگر ادارے حکومت کی سرپرستی میں آن بورڈ ہوتے ہیں۔

عائشہ عزیز کے مطابق اس وقت سندھ میں بارش کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں لیکن پنجاب میں بارشیں ہیں، بارشوں کی شدت اتنی نہیں لیکن سیلاب کی شدت زیادہ ہے ان کا کہنا ہے کہ 2 ستمبر تک یہ سیلاب گڈو بیراج تک پہنچ جائے گا جس کی ہم مکمل مانیٹرنگ کر رہے ہیں گڈو بیراج پر جب یہ سیلاب پہنچے گا اس سے ہم اندازہ لگا پائیں گے کہ اس سیلاب کی سندھ میں کیا شدت ہوگی۔

عائشہ عزیز کے مطابق اس وقت بھارت پر بارش کے بادل ہیں جس کی وجہ سے وہاں سیلابی صورت حال ہے اور وہی پانی وہاں سے پاکستان کے پنجاب میں داخل ہو رہا ہے۔

عائشہ عزیز کے مطابق اگر ہمیں سکرین پر کوئی ڈیویلپمنٹ نظر آتی ہے تو سب سے پہلے ہم مختلف چینلز استعمال کرتے ہیں جیسے کہ پی ٹی اے سے رابطہ کیا جاتا ہے جو ایس ایم ایس کے ذریعے متعلقہ علاقوں میں پیغامات پہنچا دیتا ہے، دوسرا ہم ڈسٹرک انتظامیہ سے رابطہ کرتے ہیں جو مساجد میں اعلانات کراتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم شاہراہیں چوں کہ سطح زمین سے بلند ہوتی ہیں تو وہاں پانی یا تو ہوتا نہیں اگر ہوتا بھی ہے تو اتنا ہوتا ہے جس سے گاڑی گزر سکے یہاں تک کہ 2010 کے سیلاب میں شہریوں نے شاہراہوں پر ہی پناہ لی تھی کیوں اس وقت زمین پانی کی لپیٹ میں تھی اور خشک جگہ صرف سڑکوں پر ملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سیلاب کا راستہ دریا ہے اور دریائی گزرگاہوں میں 12 لاکھ کیوسک پانی گزارنے کی گنجائش موجود ہے جو اس سیلابی پانی سے کئی زیادہ ہے، 2022 میں ہم نے دیکھا تھا کہ بلوچستان میں ہونے والی شدید بارشوں نے سندھ کو اپنے لپیٹ میں لے کیا تھا لیکن ایسا اس بار نظر نہیں آرہا۔ اس وقت امکان یہی ہے کہ سیلابی ریلا دریاؤں سے ہوتا ہو سمندر میں داخل ہو جائے گا کیوں کہ بند مضبوط بھی ہیں اور اونچے بھی کردیے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اربن فلڈنگ بارش پانی سندھ سیلاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اربن فلڈنگ پانی سیلاب میں داخل ہو صورت حال ہیں لیکن کا کہنا

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود