وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی نیچرل میڈیسن کلینک
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں نیچرل میڈیسن کلینک کے قیام کے لیے قرشی فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط ہو گئے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں وائس چانسلر کے دفتر میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جہاں شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری اور قرشی فاؤنڈیشن کے عہدیداروں نے معاہمت نامے پردستخط کیے۔
ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے اس موقع پر کہا کہ اسلام آباد کے سرسبز و شاداب علاقے چک شہزاد میں واقع وفاقی اردو یونیورسٹی میں نیچرل میڈیسن کلینک کے قیام سے طلبہ و اساتذہ کے علاوہ عام شہریوں کو بھی بالکل مفت علاج کی سہولیات میسر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کلینک نہ صرف قدرتی ادویات کی اہمیت کو اجاگر کرے گا بلکہ بہترین صحت کی سہولیات تک رسائی بھی ممکن بنائے گا۔
وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے قرشی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو ایک سنگ میل قرار دیا اور یونیورسٹی کے اساتذہ نے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے اکیڈمک اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے وژن کو سراہا ہے۔
تقریب میں اسلام آباد کیمپس کی انچارج ڈاکٹر صبا بشیر، صدر شعبہ ماس کمیونیکیشن ڈاکٹر فیصل جاوید اور دیگر شعبوں کے صدور شریک ہوئے۔
قبل ازیں اردو یونیورسٹی کراچی میں بھی قرشی فاؤنڈیشن کے تحت کلینک قائم کیا جا چکا ہے اوراس وقت فعال ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری وفاقی اردو یونیورسٹی قرشی فاؤنڈیشن اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔