خیبر پختونخوا میں الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار اب تک 800 جانیں بچا چکے، مرکزی صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان کی تنظیم کے رضاکاروں نے بے شمار ریسکیو آپریشن کیے جن کے دوران اب تک 800 افراد کی جانیں بچائی جاچکی ہیں۔
اب تک سیلاب میں الخدمت فاؤنڈیشن نے 600 لوگوں کو بروقت ریسکیو کر کے ان کی جانیں بچائیں ہیں، اور خیبرپختونخوا میں پینے کے پانی اور کھانے کی اشیاء کی فوری ضرورت تھی، ان کو پہلا پانی بھجوایا اور بعد میں سوات اور بونیر میں فلٹریشن پلانٹ لگائیں ہیں، اور اب تک 7 ہزار افراد کو روزانہ… pic.
— WE News (@WENewsPk) August 30, 2025
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب میں اب اتک 800 سے زیادہ لوگ جان کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ 100سے زائد افراد لاپتا اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ملک میں حالیہ سیلاب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 7 ہزار سے زائد مکانات متاثر ہوچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار، ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے لیے ایمرجنسی گرانٹ کا اعلان
ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے کہا کہ سیلابی صورتحال بننے کے دوران صاف پانی کی فراہمی بہت ضروری تھی کیوں کہ سیلاب متاثرین بے گھر تھے اور ان کے پاس پینے کے لیے صاف پانی بھی نہیں تھا اس لیے پہلے مرحلے میں (منرل واٹر) کے ٹرک بھیجے گئے جبکہ بعد میں فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا جو 48 ہزار لیٹرزپانی یومیہ فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں روزانہ تقریباً 7 ہزارافراد کو کھانا کھلایا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف امراض پھوٹنے کے خدشے کے پیش نظر پہلے دن سے مخلتف میڈیکل کیمپ لگائے گئے اور اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 200 سے زائد میڈیکل کیمپ قائم کیے جاچکے ہیں جن میں 30 ہزارسے زائد لوگوں کو فری علاج فراہم کیا جاچکا ہے۔
مزید پڑھیے: ایشیائی ترقیاتی بینک سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دے گا
انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن شعبہ صحت کے پاس 300 سے زئد ایمبولینسز، 12موبائل ہیلتھ یونٹس اور ہزاروں کے تعداد میں کوالیفائد ڈاکٹر ہیں جن میں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن سے رجسٹرڈ 5 ہزار ڈاکٹربھی شامل ہیں جو اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے ایک سوال پر کہا کہ ایئرایمبولنس ان کے پاس نہیں ہے جو وہ خرید بھی سکتے ہیں مگر اس کے لیے پورے نظام کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ایئر ایمبولینس بھی حاصل کرلی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کے پی میں اس وقت متاثرہ لوگوں کے گھروں میں 4 تا 5 فٹ کیچڑ جمع ہے جو بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے 10ایکسویٹرز، 10ڈمپرز، 10بلیڈ والے ٹریکٹرزاور ہزاروں کی تعداد میں رضاکار صفائی کے کام میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں: سیلاب کے پنجاب سے گزر کر سندھ میں داخل ہونے پر کیا ہوگا؟
ڈاکٹر حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ضروری ہے کہ لوگوں کے گھروں اور دکانوں کی صفائی ہو اور بعد میں جن لوگوں کے گھر اور کاروبارمتاثر ہوئے ہیں لہٰذا ان لوگوں کو مالی طور پر بھی سپورٹ کرنا چاییے تاکہ ان کے کاروبار دوبارہ بحال ہوسکیں۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آفات کو روکنا حکومتوں کا کام ہوتا ہے اوراگر خیبر پختونخوا میں درخت نہ کاٹے جاتے اور آبی گزرگاہوں میں مکانات اور ہوٹلز نہ بنائے جاتے تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب حکومت کے بروقت اقدامات سے تحصیل فیروزوالہ، شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچ گئیں
ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے ترکی کی ایک کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دریا سانپ کی مانند ہوتا ہے اور پانی کے آس پاس پڑے چھوٹے چھوٹے پتھر اس کے انڈے ہوتے ہیں توکبھی نہ کبھی دریا کو آنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب دریا کے کنارے غیرقانونی تعمیرات کھڑی کی جائیں گی تو تباہی تو ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سیلاب سیلاب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سیلاب سیلاب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمان ڈاکٹر حفیظ الرحمان الخدمت فاؤنڈیشن انہوں نے کہا کہ کہ سیلاب کہا کہ ا کے لیے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک