ایران کا اسرائیلی موساد کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والے 8 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
ایران کی انقلابی گارڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے 8 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ حساس مقامات کی لوکیشنز اور اعلیٰ فوجی شخصیات کی تفصیلات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
انقلابی گارڈز نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار افراد نے یہ معلومات جون میں اسرائیل کی ایران پر فضائی کارروائی کے دوران موساد کو دی تھیں جب اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز سمیت عام شہری بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کے معائنہ کاروں کی واپسی، یورپی ممالک کے ساتھ اہم مذاکرات
انقلابی گارڈز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد نے موساد سے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خصوصی تربیت حاصل کی تھی۔ ان کو شمال مشرقی ایران سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنا منصوبہ عملی جامہ پہنانے والے تھے۔ گارڈز کے مطابق ان کے قبضے سے لانچر، بم، بارودی مواد اور بوبی ٹریپس بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا۔
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں پولیس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران کم از کم 21 ہزار افراد کو گرفتار کیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پر کس نوعیت کے شبہات تھے۔
ایران نے حالیہ مہینوں میں کم از کم 8 افراد کو پھانسی دی ہے جن میں ایک جوہری سائنسدان روزبہ وادی بھی شامل ہیں جنہیں 9 اگست کو اسرائیل کو ایک اور سائنسدان کے بارے میں معلومات دینے کے الزام میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران جاسوس موساد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔