ایران کی انقلابی گارڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے 8 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ حساس مقامات کی لوکیشنز اور اعلیٰ فوجی شخصیات کی تفصیلات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

انقلابی گارڈز نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار افراد نے یہ معلومات جون میں اسرائیل کی ایران پر فضائی کارروائی کے دوران موساد کو دی تھیں جب اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز سمیت عام شہری بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران میں عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کے معائنہ کاروں کی واپسی، یورپی ممالک کے ساتھ اہم مذاکرات

انقلابی گارڈز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد نے موساد سے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خصوصی تربیت حاصل کی تھی۔ ان کو شمال مشرقی ایران سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنا منصوبہ عملی جامہ پہنانے والے تھے۔ گارڈز کے مطابق ان کے قبضے سے لانچر، بم، بارودی مواد اور بوبی ٹریپس بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا۔

ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں پولیس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران کم از کم 21 ہزار افراد کو گرفتار کیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پر کس نوعیت کے شبہات تھے۔

ایران نے حالیہ مہینوں میں کم از کم 8 افراد کو پھانسی دی ہے جن میں ایک جوہری سائنسدان روزبہ وادی بھی شامل ہیں جنہیں 9 اگست کو اسرائیل کو ایک اور سائنسدان کے بارے میں معلومات دینے کے الزام میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران جاسوس موساد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ