Express News:
2026-06-03@07:38:35 GMT

کیا مشرقی پاکستان کا احیا ممکن ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT

آج سے صرف دو سال قبل بنگلہ دیش کی سرزمین پاکستانیوں کے لیے خطہ ممنوعہ بنی ہوئی تھی۔ بنگلہ دیش کے پاکستان سے ہر قسم کے تعلقات منقطع تھے۔ حسینہ واجد کو پاکستان سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ دشمن نمبر ایک خیال کرتی تھی۔ یہ نفرت دراصل وہ زہر آلود آر ایس ایس کے بطن سے پیدا شدہ مسلم دشمنی میں ڈوبی ہوئی، بی جے پی حکومت کے حکم کی تعمیل میں کر رہی تھی مگر وہ خود بھی پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت میں انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔

اس کی حکومت کی اندرونی اور بیرونی پالیسیاں سرا سر پاکستان کے خلاف تھیں، کوئی علاقائی یا عالمی ایونٹ ہو ڈھاکہ سے پاکستان کی مخالفت اور بھارت کی موافقت میں بیان بازی کی جاتی تھی حتیٰ کہ حسینہ مسلہ کشمیر کو بھی بھارتی نقطہ نظر سے دیکھتی اور کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دیتی تھی۔

حسینہ اور اس کی پارٹی عوامی لیگ پاکستان سے دشمنی میں جیسے جیسے ہر حد پار کر رہی تھی، بنگلہ دیشی عوام میں پاکستان اور پاکستانیوں سے ویسے ویسے محبت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا تھا، اس لیے کہ وہ بنگلہ دیش کے قیام کو بھارت اور مجیب کی سازش کا شاہکار سمجھتے تھے اور جس کے وہ چشم دید گواہ بھی تھے۔

وہ جانتے تھے کہ بھارتی حکمران 1947 میں تو اپنے اکھنڈ بھارت کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے مگر 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر مغربی حصے کو بھی توڑنے میں لگے ہوئے تھے تاکہ وہ اب اپنے پرانے مذموم منصوبے کو پایہ تکمیل کو پہنچا کر پورے برصغیر پر قابض ہو سکیں۔ بنگالی مسلمانوں نے بھارتی حکمرانوں کے اس خواب کو نہ صرف چکنا چور کر دیا بلکہ بنگلہ دیش میں قائم ان کی پٹھو حسینہ کی حکومت کو ہی اکھاڑ پھینکا۔

اب اس وقت وہاں عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان نواز عبوری حکومت قائم ہے اور اگلے سال فروری میں عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جن میں عوام اپنے نئے حکمرانوں کا انتخاب عمل میں لائیں گے۔ ویسے اس وقت کی حکومت کی پاکستان سے دوستی اس کی اولین ترجیح معلوم ہوتی ہے اور پاکستان سے تعلقات کو بحال کرنا اس کا اہم ہدف معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں پاکستانی سرکاری اور غیر سرکاری وفود کا جس والہانہ محبت سے استقبال کیا جا رہا ہے وہ قابل دید واقعہ ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک ساتھ انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے والے مشرقی پاکستان کو کیونکر علیحدگی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ پاکستان بنانے میں بنگالی مسلمان پیش پیش تھے۔ قیام پاکستان کا فیصلہ 1947 سے 41 سال قبل یعنی 1906 میں مسلم لیگ کے ڈھاکہ میں قیام کے وقت ہی لے لیا گیا تھا۔

بنگالی مسلمان قیام پاکستان کی جدوجہد میں قائد اعظم محمد علی جناح کی رہنمائی میں پیش پیش رہے۔ بالآخر پاکستان کا قیام بنگالی مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ یہ قائد اعظم کی رہنمائی کا کمال تھا کہ جہاں مغربی خطے میں پاکستان بنا وہاں مسلم اکثریتی بنگال کے علاقے میں پاکستان کا مشرقی حصہ عالم وجود میں آگیا۔

بنگالی مسلمان آزاد تو ہو گئے مگر انتہا پسند ہندو اسے ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ بدقسمتی سے مشرقی پاکستان میں سیاسی کشمکش بہت زیادہ رہی اور شیخ مجیب الرحمن نے وہاں کے عوام کی محرومی کے نام پر علیحدگی کا پرچار شروع کردیا گوکہ 1971 کے عام انتخابات میں اس کی پارٹی جیت چکی تھی مگر پھر بھی علیحدگی کا پرچار جاری رکھا اور اسلام آباد کو مرکز ماننے سے انکارکر دیا پھر مشرقی پاکستان میں انارکی پھیلا دی۔

ادھر بھارت نے مکتی باہنی کے نام سے اپنے فوجیوں پر مشتمل نقلی بنگالی فورس تیار کی جس نے وہاں بنگالیوں کا قتل عام شروع کر دیا تاکہ بنگالیوں میں مغربی پاکستان سے نفرت پیدا کی جائے۔ حالات کی اس سنگینی سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے باقاعدہ حملہ کر دیا اور پھر سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ رونما ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہاں شیخ مجیب کی سرکردگی میں حکومت قائم کر دی گئی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

شیخ مجیب کے قتل کے بعد چند سال فوجی حکومتیں قائم رہیں پھر مجیب کی بیٹی حسینہ کی حکومت قائم ہو گئی جوکہ کہنے کو جمہوری تھی مگر وہ بھارت کی مدد سے قائم ہوئی تھی اور اسی کی مدد سے چلتی رہی۔ حسینہ پندرہ سال تک حکومت کرکے ایک ڈکٹیٹر بن چکی تھی اسے عوامی مشکلات اور جذبات سے کوئی سروکار نہیں تھا وہ تو بنگلہ دیش کو بھارت کی 29 ویں ریاست کی وزیراعلیٰ کے طور پر چلا رہی تھی مگر عوام اس تماشے کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور بالآخر پچھلے سال اگست میں بنگالی نوجوانوں نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور اس کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ 

اب اس وقت بنگلہ دیشیوں کی پاکستان سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہاں 14 اگست کو شان و شوکت سے یوم آزادی منایا گیا، اس سے قبل بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت اور وفات پر پرتپاک تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔ وہاں پاکستانی مصنوعات کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔

اس وقت ڈھاکہ میں پاکستانی مصنوعات کی نمائش جاری ہے جہاں روز ہی میلے کا سماں ہوتا ہے پاکستانی مصنوعات کو لوگ سوغات کے طور پر خرید رہے ہیں۔ حال ہی میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کئی وزرا پر مشتمل ایک وفد کے ہمراہ ڈھاکہ کا دورہ کر چکے ہیں جہاں ان کا والہانہ استقبال ہوا ہے اور کئی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے ملاقاتیں کی ہیں۔

اب لگتا ہے یہ تعلقات دن بہ دن بڑھتے ہی جائیں گے مگر ان میں بھارت کی جانب سے شب خون مارنے کا خدشہ ابھی موجود ہے۔ تاہم بنگالی مسلمان اب پاکستان کا دامن مضبوطی سے پکڑ چکے ہیں اور چین بھی پاک بنگلہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1971 میں بنگالیوں کے قتل عام پر معافی کا معاملہ اور اثاثوں کی تقسیم کا مسئلہ اس دوستی میں رکاوٹ نہیں بن پائیں گے، اگر تعلقات اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو آگے جا کر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں بازو پھر ایک جسم کی شکل اختیار کر لیں اور پہلے کی طرح ایک ہو جائیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بنگالی مسلمان مشرقی پاکستان میں پاکستان پاکستان سے پاکستان کا بنگلہ دیش بھارت کی کی حکومت تھی مگر کر دیا اور اس

پڑھیں:

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا

مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم  ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔

اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25

— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔

’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،

خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار

فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری

عائد ہوتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان

نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…

— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026

’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا

دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی

تباہی پر فخر کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی

کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم