سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ، بیراجوں کی نگرانی سخت
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلاب سے 30 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثرین ہیں، مریم اورنگزیب
انہوں نے کہا کہ دریا کے اطراف بند، نہروں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے مطابق وزیر آبپاشی جام خان شورو نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 83 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔
سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 13 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 59 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 64 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موسلادھار بارشوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خطرہ
حکام کے مطابق بیراجوں کی موجودہ صورت حال قابو میں ہے تاہم پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کچے کے علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بروقت آگاہ کریں اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھیں۔
انہوں نے وزرا اور انتظامیہ کو تاکید کی کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر حفاظتی اقدامات کی نگرانی کریں۔
دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال پر یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کے کئی نشیبی علاقے بارشوں کے باعث پہلے ہی متاثر ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوا تو درمیانے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ سیلاب شکھربیراج مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیلاب شکھربیراج مراد علی شاہ وزیراعلی سندھ پانی کی آمد
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔