پشاور میں بارش سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
پشاور:
صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 30 اگست سے اب تک ہونے والی بارش، اربن اور فلش فلڈ کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ابتدئی رپورٹ جاری کردی۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق صوبے میں ہونے والی بارش، اربن اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 5 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں 4 بچے اور ایک خاتون اور زخمیوں میں ایک مرد، ایک خاتون اور 3 بچے شامل ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ بارش اور اربن فلڈنگ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 6 گھروں کو نقصان پہنچا، جس میں 3 گھروں کو جزوی اور 3 گھر مکمل منہدم ہوئے، یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، جنوبی وزیرستان، خیبر اور ایبٹ آباد میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم کے مطابق 15 اگست سے اب تک صوبے میں بارشوں، فلش اور اربن فلڈنگ کے باعث مختلف حادثات میں 411 افراد جاں بحق اور 258 زخمی ہوئے، 3 ہزار 580 گھروں کو نقصان پہنچا۔
ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی ناخوش گوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورت حال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ کے باعث
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔