پنجاب میں تاریخ ساز سیلاب، 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
ایٹ کلب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبے میں اس وقت سیلاب کی تاریخ کی سب سے غیر معمولی صورتحال درپیش ہے، جس نے 20 لاکھ سے زائد آبادی کو متاثر کیا ہے۔
غیر معمولی صورتحالمریم اورنگزیب نے کہا کہ دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں اس طرح کی سیلابی کیفیت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
پنجاب کے بیشتر اضلاع میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سامان کی فرامی کا سلسلہ جاری۔۔۔ pic.
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) August 31, 2025
ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور تمام ادارے ایک مٹھی کی طرح عوام کی جانیں بچانے کے لیے متحرک ہیں اور غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔
متاثرہ آبادی اور ریسکیو آپریشنسینیئر وزیر نے بتایا کہ سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے جن میں سے 7 لاکھ 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
5 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بھی بچا لیا گیا ہے اور 400 سے زیادہ ویٹنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں یکم ستمبر سے تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونگی، سیلاب زدہ 45 اسکول ریلیف کیمپس میں تبدیل
انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے جبکہ پولیس، پیرا، سول ڈیفنس اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو بھی کیمپس کے طور پر مختص کیا گیا ہے۔
ریلیف سرگرمیاںمریم اورنگزیب کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قائم کیمپوں میں خشک راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ گھروں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو سی اور تھانہ سطح پر سیلاب سے متاثرہ گھروں میں چوری کے واقعات کا نوٹس لے لیا گیا ہے جبکہ ڈرون اور تھرمل کیمروں کے ذریعے ریسکیو آپریشن بھی کیا گیا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا الزامانہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے اسپیل ویز کھولنے کے نتیجے میں پاکستان میں پانی کا بہاؤ خطرناک سطح تک بڑھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے کناروں پر خطرناک آبادیاں ہیں اور ان کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ماحولیات اور تجاوزات پر ایکشنسوال و جواب کے سیشن میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ شاہدرہ میں سیلاب سے ایک بھی جان ضائع نہیں ہوئی۔
جو بھی آپ خشک راشن بانٹ رہے ہیں کتنی تعداد میں بانٹ رہے ہیں اور جو آپ کھانا تقسیم کررہے ہیں مجھے اسکی مسلسل فوٹیج ملنی چاہیے
تاکہ مجھے پتا ہو کہاں کہاں کیا کیا کام ہورہا ہے ،
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف pic.twitter.com/epOXaopRCT
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) August 30, 2025
انہوں نے بتایا کہ جنگلات کی لکڑی کی کٹائی پر ایکشن لیا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ درختوں کی نیلامی پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے کیونکہ اس عمل کے ذریعے اندھا دھند لکڑی کاٹی جاتی ہے۔ اسی طرح نالہ لئی سے تجاوزات کے خاتمے کا عمل بھی جاری ہے۔
مستقبل کے اقداماتان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ڈیمز پر کام شروع ہو چکا ہے اور یہ منصوبے اے ڈی پی پلان میں شامل ہیں۔
سیلابی ریلے میں ڈوبتا ہوابیٹی کی رخصتی کا سامان!
ریسکیو ٹیم نے خدمت اور احساس کی اعلیٰ مثال قائم کردی
دراساں والی بھینی میں بے بس باپ کی اطلاع پر ریسکیو ٹیم نے سامانِ زندگی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا pic.twitter.com/F2Cd5lVv8v
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) August 30, 2025
انہوں نے کہا کہ انڈسٹریل اور نان انڈسٹریل زونز کی ازسرِنو منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ وسائل اور تیاری کے باعث غیر معمولی صورتحال کا مقابلہ کیا گیا ہے اور آئندہ بھی کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایاتمریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تمام ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے اپنے حلقوں میں فیلڈ پر موجود ہیں اور عوام کی جان بچانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں سیلاب زیادہ ہوگا وہاں ڈپٹی کمشنرز کو اسکول بند کرنے کا اختیار ہوگا تاہم کل سے لاہور میں اسکول کھل جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب چناب راوی ریسکیو ستلج سیلاب صوبائی وزیر مریم اورنگزیب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راوی ریسکیو ستلج سیلاب مریم اورنگزیب غیر معمولی صورتحال مریم اورنگزیب نے انہوں نے کہا کہ کیا گیا ہے سیلاب سے ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان