امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت نے اب اپنے محصولات صفر کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم یہ اقدام بہت تاخیر سے کیا گیا ہے اور یہ دراصل کئی سال پہلے ہونا چاہیے تھا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ عام تاثر کے برعکس امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی حجم بڑا ہے، بھارت امریکا کو وسیع مقدار میں مصنوعات فروخت کرتا ہے جبکہ امریکا بھارت کو انتہائی محدود سامان بیچتا ہے۔

ان کے مطابق کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات یک طرفہ رہے ہیں اور بھارت نے امریکا پر سب سے زیادہ محصولات عائد کیے ہیں، جس کے باعث امریکی کمپنیوں کو بھارتی مارکیٹ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتِ حال امریکا کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ بھارت اپنی زیادہ تر توانائی اور فوجی ساز و سامان روس سے خریدتا ہے اور امریکا سے اس کی خریداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ محصولات صفر کرنے کی تجویز اب بے وقت ہے، یہ اقدام برسوں پہلے ہونا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں امریکا اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ کرنے پر صدر ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف 50 فیصد بڑھا دیا تھا۔

ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاک بھارت کشیدگی میں اپنے ممکنہ کردار کا ذکر کرتے رہے ہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ ان کی پیشکش کو رد کیا ہے۔ اسی کشیدہ فضا کے باعث ٹرمپ نے رواں سال طے شدہ بھارت کا دورہ بھی منسوخ کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا بھارت تعلقات امریکی ٹیرف امریکی صدر پیشکش ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بھارت تعلقات امریکی ٹیرف امریکی صدر پیشکش ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز

پڑھیں:

پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا

پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل