پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی اجلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آئندہ سے ہم قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بجائے احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کریں گے۔
دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کے پی ہاؤس میں ہوا، پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو بانی پی ٹی آئی کے احکامات پڑھ کر سنائے گئے، پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے خان کے احکامات کو درست قرار دیا، پارلیمانی پارٹی نے شہدا کے درجات کیلئے خصوصی دعا کی ہے ہم آئندہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بجائے احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان قومی اسمبلی سے مختلف بہانوں کے ذریعے نشستیں چھینی گئیں، ہمارے ارکان کو نااہل کیا گیا اور ہمیں بولنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی، ہم جشن آزادی اگر منانا چاہیں تو وہ بھی منانے نہیں دیتے، ہم بےشمار مشکلات کے باوجود ایوان میں حاضر ہوئے ہم نے اسمبلی اجلاس میں اپنے مطالبات کو جمہوری انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی مگر ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
وفاقی حکومت کا بھی فرض کہ سیلاب متاثرین کی مدد کرے، اسد قیصر
اسد قیصر نے کہا کہ کے پی حکومت سیلاب زدگان کے لیے کام کر رہی ہے، ہم بانی پی ٹی آئی سے درخواست کریں کہ وہ سیلاب متاثرین کے لیے فنڈ کی اپیل بھی کریں، ہم اپنی قوم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں لوگوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سیلابی صورتحال ہے اور ان علاقوں میں بیماریاں بھی ہونگی ہم اقوام متحدہ سے بھی اپیل کریں گے وہ سیلاب متاثرین کے لیے امداد کریں صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی امداد کرے۔
490 افراد خیبرپختونخوا میں سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے، وزیراعلیٰ کے پی
وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بارشوں سے کئی شہروں میں ہمارے نقصانات ہوئے، بنیر شانگلہ، صوابی اور سوات بہت متاثر ہوا، 12 اور 14 فٹ کا ریلہ آیا جس نے گھروں کو زمین بوس کردیا، ہمارے تمام ادارے متحرک ہوئے اور کام کیا، 24 گھنٹوں میں تمام لوگوں تک پہنچ کر ریسکیو کیا، اب تک شہید ہوئے تمام افراد کو نکالا گیا ہے، 490 افراد خیبرپختونخوا میں سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے۔
انہوں ںے کہا کہ ہم متاثرین کا ازالہ کررہے ہیں، مرنے والوں کے ورثا کو 20 ،20 لاکھ روپے دیے گئے ہیں 50 فی صد زخمیوں کو رقم مل گئی ہے، ہمارے پاس زخمیوں کو دینے کیلیے چیک بکس کم پڑ گئے اس لیے 100 فی صد زخمیوں کو پیسے دینے سے قاصر رہے، مکمل تباہ ہونے والے گھروں کو 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں سرکاری املاک پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں اتنی تیزی سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کام نہیں ہوا جتنا ہم نے کیا، اگر ہم نے وقت پر ڈیم بنائے ہوتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا 10 لاکھ روپے میں کسی کا گھر نہیں بن سکتا یہ صرف ایک سپورٹ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پارلیمانی پارٹی سیلاب متاثرین قومی اسمبلی نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز