7 سال سے لاپتا شوہر کو پہلی بیوی نے انسٹا ریلز پر دوسری بیوی کے ساتھ پکڑ لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع ہردوئی میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شادی کے بعد لاپتا ہونے والا شخص انسٹاگرام ریلز کے ذریعے دوسری خاتون کے ساتھ پکڑا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جتیندر کمار کی 2017 میں مران نگر کی رہائشی شیلو سے شادی ہوئی تھی اور کچھ عرصے بعد ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی۔ تاہم شادی کے بعد جتیندر اور اس کے اہلخانہ شیلو کو جہیز کے لیے ہراساں کرنے لگے اور سونے کی چین سمیت دیگر سامان کا مطالبہ کرتے رہے۔
اسی دوران جتیندر اچانک لاپتا ہوگیا۔ اپریل 2018 میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی لیکن طویل عرصے تک اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ حتیٰ کہ جتیندر کے اہلخانہ نے شیلو کے گھر والوں پر قتل کا الزام بھی لگا دیا۔
کچھ دن پہلے شیلو نے انسٹاگرام استعمال کرتے ہوئے ایک ریل دیکھی جس میں اس کا شوہر دوسری عورت کے ساتھ لدھیانہ میں دکھائی دیا۔ شیلو کا کہنا ہے کہ جتیندر نے دوسری شادی کر لی ہے اور اسی عورت کے ساتھ رہ رہا ہے جبکہ جتیندر کے اہلخانہ کو سب علم تھا لیکن انہوں نے چھپائے رکھا۔
پولیس کے مطابق شادی کے ایک سال بعد جتیندر بغیر اطلاع کے گھر سے گیا تھا اور اس وقت گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔ اب بیوی کی درخواست پر پولیس معاملے کی دوبارہ تحقیقات کر رہی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔