لاہور:

ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ آج رات ملتان میں زیادہ خطرہ ہے، شام میں ہیڈ محمد والا پر پانی زیادہ بڑھا تو شگاف لگانا پڑے گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح فی الحال برقرار ہے تاہم ہیڈ محمد والا پر پانی میں اضافہ متوقع ہے جس کے باعث وہاں ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑا گیا ہے جس کا ریلا مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، حالیہ بارشوں کے باعث ریسکیو آپریشن متاثر ہوا ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ آج رات ملتان میں ہے۔

عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد آئندہ 4 سے 6 گھنٹے نہایت اہم ہیں، دریائے چناب کا بڑا ریلا ہیڈ تریموں سے نکل کر آج رات ملتان پہنچے گا جبکہ ہیڈ سنگنائی پر پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے پیر محل اور خانیوال متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں فوج، ریسکیو 1122، سرکاری ادارے اور نجی تنظیمیں شریک ہیں۔ بارشوں کے باعث ریسکیو سرگرمیاں متاثر ہوئیں تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 26 تاریخ سے اب تک 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق سیلاب سے اب تک 3200 سے زائد دیہات اور 24 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 395 ریلیف کیمپس، 392 میڈیکل کیمپس اور 336 ویٹرنری کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں، اب تک 9 لاکھ 99 ہزار افراد اور 7 لاکھ 8 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منگلا ڈیم 82 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے، اسی طرح بھارت کے بھاکڑا ڈیم میں 84 فیصد، پونگ ڈیم میں 98 فیصد اور تھیئن ڈیم میں 92 فیصد پانی بھرنے کی اطلاع ہے۔ یہ صورتحال خطرے میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش ریکارڈ کی گئی جن میں نارووال میں سب سے زیادہ 77 ملی میٹر جبکہ لاہور میں 21 اور راولپنڈی میں 64 ملی میٹر بارش شامل ہے۔

حکام نے دریاؤں کے قریب رہنے والے شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔ خاص طور پر کسانوں کے مالی نقصانات کا تخمینہ لگا کر ان کی امداد کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے پر پانی

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ