پانی مزید بڑھا تو ملتان کے ہیڈ محمد والا میں شگاف لگانا پڑ سکتا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
لاہور:
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ آج رات ملتان میں زیادہ خطرہ ہے، شام میں ہیڈ محمد والا پر پانی زیادہ بڑھا تو شگاف لگانا پڑے گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح فی الحال برقرار ہے تاہم ہیڈ محمد والا پر پانی میں اضافہ متوقع ہے جس کے باعث وہاں ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑا گیا ہے جس کا ریلا مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، حالیہ بارشوں کے باعث ریسکیو آپریشن متاثر ہوا ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ آج رات ملتان میں ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد آئندہ 4 سے 6 گھنٹے نہایت اہم ہیں، دریائے چناب کا بڑا ریلا ہیڈ تریموں سے نکل کر آج رات ملتان پہنچے گا جبکہ ہیڈ سنگنائی پر پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے پیر محل اور خانیوال متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں فوج، ریسکیو 1122، سرکاری ادارے اور نجی تنظیمیں شریک ہیں۔ بارشوں کے باعث ریسکیو سرگرمیاں متاثر ہوئیں تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 26 تاریخ سے اب تک 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق سیلاب سے اب تک 3200 سے زائد دیہات اور 24 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 395 ریلیف کیمپس، 392 میڈیکل کیمپس اور 336 ویٹرنری کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں، اب تک 9 لاکھ 99 ہزار افراد اور 7 لاکھ 8 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منگلا ڈیم 82 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے، اسی طرح بھارت کے بھاکڑا ڈیم میں 84 فیصد، پونگ ڈیم میں 98 فیصد اور تھیئن ڈیم میں 92 فیصد پانی بھرنے کی اطلاع ہے۔ یہ صورتحال خطرے میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش ریکارڈ کی گئی جن میں نارووال میں سب سے زیادہ 77 ملی میٹر جبکہ لاہور میں 21 اور راولپنڈی میں 64 ملی میٹر بارش شامل ہے۔
حکام نے دریاؤں کے قریب رہنے والے شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔ خاص طور پر کسانوں کے مالی نقصانات کا تخمینہ لگا کر ان کی امداد کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے پر پانی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔