وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبے میں ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں اب تک 411 افراد جاں بحق اور 12 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ  علی امین گنڈا پور نے بیٹ رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں 3 مقامات پر کلاؤڈ برسٹ کے واقعات پیش آئے جس کے نتیجے میں پتھر، درخت اور پہاڑ زمین بوس ہوئے جبکہ درجنوں مکانات بھی تباہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا میں بادل پھٹنے سے تباہی، کیا کلاؤڈ برسٹ روکا جاسکتا ہے؟

وزیر اعلیٰ کے مطابق، اب تک کے اعداد و شمار میں 411 افراد جاں بحق اور 12 ہزار 500 سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 86 پل تباہ، 413 چھوٹی بڑی سڑکوں کو نقصان پہنچا جبکہ 12 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور انہیں خیموں، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں میں ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے کلاؤڈ برسٹ کی وجوہات، خطرات اور احتیاطی اقدامات

معاوضے میں اضافہ

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے متاثرین کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کیا ہے:

اموات کا معاوضہ 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیا گیا۔

زخمیوں کا معاوضہ ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کیا گیا۔

مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک جاں بحق ہونے والے 411 افراد میں سے 352 کے لواحقین کو 70 کروڑ روپے معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ اسی طرح 60 زخمیوں کو 3 کروڑ روپے اور مکمل طور پر منہدم مکانات کے مالکان کو 36 کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگلے 2 روز کے اندر تمام متاثرین کو ہر قسم کی رقم فراہم کر دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خیبرپختونخوا کلاؤڈ برسٹ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا کلاؤڈ برسٹ وزیراعلی علی امین گنڈا پور علی امین گنڈا پور کلاؤڈ برسٹ وزیر اعلی لاکھ روپے کیا گیا

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود