تشدد اور دھمکانے کے کیس میں نامزد فرحان غنی کو عمرہ پر جانے کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
کراچی کی انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگرکیخلاف سرکاری ملازمین پرتشدد اور دھمکانےکےکیس کی سماعت ہوئی، تفتیشی افسر محمد وسیم اور فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر ملزمان آگئے ہیں، میری گزارش ہے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ ختم کرنے کی درخواست منظور کی جائے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اے ٹی اے کی دفعہ ہٹانی تھی تو لگائی ہی کیوں، اے ٹی اے نہیں لگاتے سیدھا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کی رہائی، مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا
وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ گزارش ہے کہ مجسٹریٹ کو آرڈر کیا جائے تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست پر قانون کے مطابق حکم نامہ جاری کریں گے، وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ میرے موکل کو عمرے کی ادائیگی کے لیے جانا ہے۔
عدالت نے فرحان غنی سے استفسار کیا کہ آپ کو کب عمرے پر جانا ہے اور کب واپس آئیں گے، فرحان غنی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کل صبح روانہ ہوںا ہے اور 19 ستمبر کی واپسی ہے، عدالتی استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹکٹ کنفرم ہیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ تو پھر آئندہ سماعت 20 ستمبر کو رکھ لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کسی کو نہیں مارا مجھ پر جھوٹا الزام لگایا گیا، فرحان غنی کا عدالت میں بیان
فرحان غنی نے عدالت سے 22 ستمبر بروز کو سماعت درخواست کی، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ چلیں ٹھیک ہے، پیر کو رکھ لیتے ہیں، اس موقع پرایک بار پھر وکیل صفائی نے عدالت سے آئندہ سماعت پر فرحان غنی کو استثنیٰ کی استدعا کی۔
عدالت نے وکیل صفائی کی زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر پولیس رپورٹس پر فیصلہ کریں گے، عدالت نے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسداد دہشت گردی ایکٹ تفتیشی افسر عمرے کی ادائیگی فرحان غنی مجسٹریٹ محمد وسیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشت گردی ایکٹ تفتیشی افسر عمرے کی ادائیگی مجسٹریٹ ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی نے عدالت عدالت نے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔