سینئر اداکار ندیم بیگ نے پاکستان کے سنیما کے زوال کی وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پاکستان فلم و ڈرامہ انڈسٹری کے سینئر اداکار ندیم بیگ نے فلموں، ڈراموں اور سنیما کے زوال کی وجہ بتا دی۔
ایک حالیہ گفتگو میں ندیم بیگ نے کہا کہ ہماری فلمیں ڈراموں کی طرح محسوس ہوتی ہیں اور ان کے مطابق اس کی وجہ یہ کہ تمام لیجنڈری فلم میکرز وفات پاچکے ہیں۔
سینئر اداکار کا کہنا تھا کہ اب جو لوگ فلمیں بنا رہے ہیں وہ ٹیلی ویژن سے آتے ہیں۔ کم از کم وہ فلمیں بنا رہے ہیں لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری انڈسٹری کو کیا ہو گیا ہے۔ سینما گھر بند ہو گئے، اسٹوڈیو بند ہو گئے، فلمی ماحول ختم ہو گیا۔
ندیم بیگ نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سہولیات، وسائل اور کام کے مواقع کی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب بھی شکر گزار ہونا چاہئے کہ لوگ اپنی صلاحیت کے مطابق جو کچھ کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔
سنیما انڈسٹری کے زوال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ندیم بیگ کا کہنا تھا کہ زوال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم تقسیم سے گزرے اور مشرقی پاکستان میں ایک بڑی مارکیٹ کھو بیٹھے، اس کے بعد اسٹوڈیوز ختم ہونے لگے، اس کے علاوہ پاکستان میں فلم اکیڈمیز نہیں ہیں اور ٹکٹ کی قیمتیں بھی بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اصل ناظرین نچلے متوسط طبقے کے لوگ تھے، جو اب مہنگائی کی وجہ سے سینما گھروں کا رُخ نہیں کر سکتے، ہمیں صرف اس ہی طبقے کیلئے سنیما کے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ ندیم بیگ نے کی وجہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔