چیئرمین اوگرا اور ارکان کی تنخواہوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
چیئرمین اوگرا اور ارکان کی تنخواہوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر انچارج برائے کابینہ ڈویژن نے تحریری طور پر چیئرمین اوگرا اور ممبران کی تنخواہوں کی تفصیلات پیش کیں، جس میں بتایا گیا کہ چیئرمین اوگرا کی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ روپے مقرر ہے۔ ممبر آئل اور ممبر فنانس کی ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ روپے سے زائد ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر الیاس فضل، اعجاز سڈل اور بریگیڈیئر شہباز ایڈوائزرز کے طور پر تعینات ہیں۔ ایڈوائزرز کا ماہانہ معاوضہ 8 لاکھ روپے مقرر ہے۔ ایڈوائزرز ابتدائی طور پر ایک سالہ کنٹریکٹ پر تعینات ہوتا ہے۔ کنٹریکٹ میں 3 سال تک توسیع کی جا سکتی ہے ۔
پیش کی گئی تفصیلات میں مزید بتایا گیا کہ بریگیڈیئر شہباز سکیورٹی ایڈوائزر کا کنٹریکٹ 12 فروری 2025 کو ختم ہوگیا۔ چیئرمین اوگرا کی تنخواہ سے 4 لاکھ 97 ہزار روپے سے زائد ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے۔ ممبر آئل و فنانس کی تنخواہ پر 2 لاکھ 77 ہزار 500 روپے ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے۔ اوگرا نے آرڈیننس 2002 کی سیکشن 14 کے تحت ایڈوائزرز کے عہدے منظور کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین اوگرا کی تنخواہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔