پی ٹی آئی کے مزید 28اراکین اسمبلی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پی ٹی آئی کے مزید 28اراکین اسمبلی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہو گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پی ٹی آئی کے مزید 28 اراکین اسمبلی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے مستعفی اراکین کی تعداد 47 ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اراکین نے اپنے استعفے سپیکر آفس میں جمع کروا دیئے، اسی طرح پی ٹی آئی کے 6 اراکین قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔کمیٹی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے والوں میں جنید اکبر، عامر ڈوگر، ثنا اللہ مستی خیل، ڈاکٹر ضیا الدین، جاوید اقبال اور حاجی امتیاز احمد شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنوں میں ایف سی پر بڑا حملہ ناکام، مقابلے کے بعد خودکش حملہ آور سمیت 5 دہشتگرد ہلاک بنوں میں ایف سی پر بڑا حملہ ناکام، مقابلے کے بعد خودکش حملہ آور سمیت 5 دہشتگرد ہلاک عظمی بخاری نے کالا باغ ڈیم سے متعلق علی امین گنڈاپور کے بیان کی حمایت کردی چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ کالا باغ جیسا ڈیم نہ بنانا ملک اور نسلوں کے ساتھ زیادتی ہے، علی امین گنڈاپور چین اور پاکستان مصیبت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والےبھائی ہیں، چینی صدر سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹیوں پی ٹی آئی کے سے مستعفی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔