بنوں میں ایف سی لائن پر دہشتگردوں کا حملہ، 4 حملہ آور ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
ایف سی لائن پر دہشتگردوں کا حملہ، فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں سے جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق صبح 10 بج کر 5 منٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھری گاڑی ایف سی لائن کی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد مبینہ طور پر 5 دہشتگرد اندر گھس آئے، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کی جس میں اب تک 4 حملہ آور ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور سمیت کئی دہشتگرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
واقعے میں پولیس کے ایس ایچ او اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں سمیت 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ایف سی کے کچھ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان خود موقع پر موجود ہیں اور آپریشن کی براہِ راست قیادت کر رہے ہیں۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوان بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف سی لائن ایلیٹ فورس بنوں خودکش حملہ سرچ آپریشن سیکیورٹی فورسز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف سی لائن ایلیٹ فورس خودکش حملہ سیکیورٹی فورسز ایف سی لائن حملہ آور
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔