فیصلہ یہی ہے کہ ہم قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی رہیں گے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی ائی عمران خان کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے استعفوں اور پارلیمنٹ کے باہر اسمبلی لگانے سے متعلق آگاہ کیا، ہمارا فیصلہ یہی ہے کہ ہم قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی رہیں گے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی ہماری ملاقات اج بانی پی ٹی ائی سے ہوئی ہے، 15سے 20 منٹ کا وقت دیا گیا، کے پی کے میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے سے متعلق بھی بانی پی ٹی آئی سے بات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بتایا کہ سیلاب کے باعث جلسوں کی تیاریوں میں کچھ تاخیر ہے لیکن تیاریاں جاری ہیں، بانی پی ٹی آئی نے پاکستان میں سیلاب صحت بھائیوں پر دلی رنج اور دکھ کا اظہار کیا ہے، پارٹی قائدین کو اور کارکنوں کو سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کے لیے ہدایت دی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے افغانستان کے علاقے کنڑ میں زلزلے سے جانی نقصان پر دلی رنج اور افسوس کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی ائی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں سے استعفوں سے متعلق اگاہ کیا، پانی پی ٹی ائی کو اج پارلیمنٹ کے باہر اسمبلی لگانے سے متعلق بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں سے متعلق بانی پی ٹی آئی نے سراہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا فیصلہ یہی ہے کہ ہم قائمہ کمیٹیوں سے مستفی رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹیوں سے بانی پی ٹی ا ئی پی ٹی ائی نے کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔