راولپنڈی،شادی کاجھانسہ دے کر پرنسپل کی متعدد بار جنسی زیادتی، میٹرک کی طالبہ 2بار حاملہ ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
راولپنڈی،شادی کاجھانسہ دے کر پرنسپل کی متعدد بار جنسی زیادتی، میٹرک کی طالبہ 2بار حاملہ ہوگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز) تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں اکیڈمی پرنسپل نے شادی کا جھانسہ دے کر امتحان کی تیاری کرانے کے بہانے میٹرک کی طالبہ کو اکیڈمی بلوایا اور دھمکیاں دیکر مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔رپورٹ کے مطابق طالبہ حاملہ ہوئی تو ملزم نے نجی کلینک لے جا کر چیک اپ کرایا اور ادویات دیتا رہا جس سے حمل ضائع ہوگیا۔پولیس نے اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان کے خلاف زیادتی و اسقاط حمل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق سال 2023 میں اسد اکیڈمی خیابان سر سید میں میڑک کلاس میں داخلہ لیا، مئی 2025 میں اکیڈمی کے پرنسپل ضیا الرحمان نے کہا کہ میری اولاد نہیں، مجھ سے شادی کرلو، پرنسپل کو منع کردیا اور کہا کہ ایسا کوئی رشتہ قائم کرنا ہے تو میرے والدین سے بات کرلیں۔مقدمے میں طالبہ نے کہا کہ لیکن حیلے بہانوں سے میرے قریب ہونا شروع کردیا، ٹیوشن پڑھانے اور اچھے نمبروں کا لالچ دینے لگا، طالبہ ہونے کے ناطے اپنے خاندان کی بدنامی کی ڈر سے خاموش رہی۔طالبہ نے کہا کہ 21 مئی کو پیپر کی تیاری کے لیے اکیڈمی بلوایا، وہاں گئی تو تمام اسٹوڈنٹس چھٹی کرکے جاچکے تھے، پرنسپل اکیڈمی میں بیٹھا تھا، تمام دروازے بند کرکے مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور کسی کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دیں۔
متاثرہ طالبہ نے مقدمے میں مزید کہا کہ پرنسپل کہتا رہا کہ میں جلد تم سے شادی کرلوں گا، میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی تو صدر کے ایک نجی کلینک میں لے جاکر علاج کرایا، ایک ماہ بعد مجھے پتہ چلا کہ میں حاملہ ہوچکی ہوں، جس پر میں نے ضیا الرحمان کو بتایا تو اس نے کوئی دوائی لاکر دی۔مقدمے کے متن کے مطابق طالبہ نے کہا کہ مجھے معلوم نہ تھا لیکن استعمال کرنے پر میری طبعیت خراب ہوگئی، بعد میں پتا چلا کہ دوائی اسقاط حمل کی تھی، میرا حمل ضائع ہوگیا، ضیا الرحمان کو پتا چلا تو اس نے کہا اب تم کسی سے شادی کے قابل نہیں، میں ہی تم سے شادی کروں گا لیکن کچھ وقت درکار ہے۔
متن مقدمہ میں مزید کہا گیا کہ جولائی میں پرنسپل ضیا الرحمان نے اکیڈمی کے دفتر کے اندر ہی مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور دھمکیاں دیں کہ کسی کو بتایا تو شادی نہیں کروں گا، اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں وہ بلیک میل کرکے زیادتی کرتا رہا جس سے دوبارہ حاملہ ہوگئی۔متن کے مطابق لڑکی نے کہا کہ ضیا الرحمان سے شادی کے ضد کی تو وہ ذہنی و جسمانی ٹارچر کرنے لگا، خاندان کی عزت کی وجہ سے سخت پریشان رہنے لگی جس سے حمل از خود ضائع ہوگیا۔
متاثرہ طالبہ نے کہا کہ اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان نے درس و تدریس کے مقدس پیشے کی آڑ میں شادی کا جھانسہ دیکر زبردستی زیادتی کرکے حاملہ کرنے اور پھر حمل ضائع کرکے سخت زیادتی کی اور میری زندگی برباد کردیا، مزکورہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔راولپنڈی پولیس نے کہا کہ مقدمہ درج کرلیاگیا ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارھے ہیں جلد گرفتار کرلیا جایے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلی امین گنڈاپور کی سات پشتیں بھی کالاباغ ڈیم کو زندہ نہیں کرسکتیں، ایمل ولی خان علی امین گنڈاپور کی سات پشتیں بھی کالاباغ ڈیم کو زندہ نہیں کرسکتیں، ایمل ولی خان صدر پاکستان کا سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے والد کی وفات پر اظہارِ افسوس پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ، پارلیمنٹ کے باہر اپنی اسمبلی لگا لی کسی کو عدالت کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیں گے، چیف جسٹس وزیراعظم اور روسی صدر کی بیجنگ میں ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا عزم علی امین گنڈاپور کی مولانا فضل الرحمن پر کڑی تنقید، سخت الفاظ کا استعمالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔