پنجاب میں سیلاب سے اموات 43 ہوگئیں، 33لاکھ سے زائد لوگ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
لاہور:
پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔
ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے اب تک 43 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے صورتحال سنگین ہونے کے باعث 3300 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے۔
سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 33 لاکھ 63 ہزار لوگ متاثر ہوئے جبکہ سیلاب میں پھنس جانے والے 12 لاکھ 92 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 405 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جبکہ 425 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 385 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں 7 لاکھ 99 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
منگلا ڈیم 83 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔ دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 84 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 98 فیصد جبکہ تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر چکا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی۔ سیالکوٹ 101، گجرانوالہ 59، گجرات 48، نارووال 41، لاہور 14، مری 12، منڈی بہاالدین 4، حافظ آباد 2 اور فیصل آباد 1 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔
آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اضلاع میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔