لاہور ہائی کورٹ  نے کاہنہ کے علاقہ سے 6 سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی  سے متعلق کیس میں عدم پیشرفت پر آئی جی پنجاب کو کل طلب کرلیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے مغویہ فوزیہ بی بی کی عدم بازیابی کیس کی سماعت کی، عدالت نے سی سی پی او لاہور کی رپورٹ عدم اطمینان کیا اور  تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے پر اظہار ناراضی کیا۔

مغویہ کی عدم بازیابی پر سی سی پی او  بلال صدیق کمیانہ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس  لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ سی سی پی او صاحب آپ کے تفتیشی افسر نے ضمنی لکھی ہے پڑھیں اس کو، ایسے ضمنی لکھی جاتی ہے ایسے اہم کیسز میں۔

عدالت نے کہا کہ لگتا ہے اس تفتیشی افسر کو ترقی بھی دیدی گئی ہوگی، چیف جسٹس  نے ریمارکس دیے تفتیشی نے سارے کام ایک ہی دن میں انجام دے دیئے ہیں۔

عدالت  نے کہا کہ کسی کا بچہ یا بچی ایک رات گھر نہ آئے تو گھر والوں کا کیا حال ہوگا، چیف جسٹس  نے ریمارکس دیے کہ اتنا عرصہ ہوگیا خاتون کا کچھ پتہ نہیں کہاں ہے۔ سی سی پی او لاہور  نے مؤقف اپنایا کہ لاپتہ لوگوں کے کیسز کیلئے الگ سے تحقیقات ہورہی ہیں،چیف جسٹس  نے کہا کہ پراگریس تو کہیں نظر نہیں آرہی، عدالت  نے کہا کہ آئی جی پنجاب پیش ہوکر وضاحت دیں۔

وکیل درخواست گزار  نے کہا کہ چھ سال سے زائد عرصہ سے خاتون غائب ہے،  اس کی عمر انتیس سال تھی ، ایک بیٹا بھی تھا، درخواست گزار خاتون کے مطابق اس کی بیٹی کو جنات لے گئے ہیں، اس کا گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا، درخواست گزار خاتون کے مطابق جنات وغیرہ کے ذریعے بیٹی غائب کردی ہے۔

درخواست گزار نے بیٹی فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں درج کرا رکھا ہے، مقدمہ فوزیہ بی بی کے شوہر اور ساس کے خلاف درج کیا گیا، پولیس نے بازیاب نہیں کیا بیٹی کی جان کو خطرہ ہے، عدالت پولیس کو فوزیہ بی بی کی بازیابی کا حکم دے استدعا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: درخواست گزار فوزیہ بی بی سی سی پی او نے کہا کہ چیف جسٹس

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ