اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فل کورٹ اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔ اسی دوران 2ججوں نے ہائی کورٹ میں شفافیت کی کمی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جسٹس بابر ستار اور جسٹس ایاز اسحق خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کو الگ الگ خط لکھے ہیں۔

ان خطوط کی کاپی دیگر ججوں کو بھی بھیجی گئی ہے۔ دونوں ججوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر زور دیا ہے کہ وہ فل کورٹ اجلاس میں ان نکات کو شامل کریں جو خطوط میں اجاگر کیے گئے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں کیسز کی فکسیشن اور روسٹر کی تیاری میں شفافیت اور منطق کی کمی کو اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے کہا معتبر ادارہ جاتی اصولوں کے برعکس آپ نے ایسے روسٹر بنائے ہیں جن میں سینئر ججوں، جن میں سینئر جج محسن اختر کیانی بھی شامل تھے، کو ڈویژ نل بینچوں کی سربراہی سے خارج کیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کیسز کی فکسیشن چیف جسٹس کی خواہشات پر مبنی ہونی چاہیے یا اس میں شفافیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہم اپنے فیصلوں میں ہر روز لکھتے ہیں کہ سرکاری اہلکار بادشاہ نہیں ہیں اور ان کے انتظامی اختیارات نہ تو بے لگام ہیں اور نہ ہی ان کا استعمال پرفریب انداز میں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خط میں کہا آپ کی نگرانی میں جاری کردہ کاز لسٹیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کیسز زیادہ تر منتقل کیے گئے ججوں اور ایڈیشنل ججوں کو دیے جاتے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان مستقل ججوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جو آپ کی اسلام آباد ہائیکورٹ منتقلی کو ناپسند کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ماتحت عدلیہ پر نگرانی اور کنٹرول کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کیا اسلام آباد ہائیکورٹ اپنی ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور کنٹرول کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے ہائیکورٹ چیف جسٹس کو بتایا کہ کہ آپ کی نگرانی میں ہم نے دیکھا ہے کہ آفس عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاز لسٹ جاری کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسز کو ایک عدالت کے ڈاکیٹ سے دوسری عدالت میں منتقل کیا جاتا ہے حالانکہ چیف جسٹس کے دفتر کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا یہ کچھ ججوں کو غیر متعلقہ بنانے میں کامیاب چالیں ہو سکتی ہیں۔ ہماری عدالتی تاریخ ایسی ہی بدنیتی پر مبنی کارروائیوں سے بھری پڑی ہے جو آمرانہ ادوار میں پھیلی تھیں۔ لیکن کیا عدالتی آزادی کو ایسے سبوتاژ کیا جانا جائز ہے؟۔

خط میں ان کمیٹیوں کی تشکیل پر بھی اعتراض کیا گیا ہے جو ہائی کورٹ کے اجتماعی کردار کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جسٹس ستار نے چیف جسٹس کو بتایا کہ انہوں نے انتظامی کمیٹیوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو سینئر ججوں کو خارج کیا ہے۔

اسی حوالے سے سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کا روسٹر کا ماسٹر ہونے کا اختیار کوئی مطلق اختیار نہیں بلکہ ایک آئینی امانت ہے۔

روسٹر کے اختیار کو پْوئسنے ججوں کو بے دخل کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا تاکہ ایگزیکٹو کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ایڈوکیٹ عبدالمعیز جعفری نے کہا ہے کہ یہ روسٹر کے ذریعے حکمرانی کا ایک اور مظہر ہے جو آزاد ججوں کو کچلنے اور کنٹرول کرنے کے لیے کئی سالوں سے رائج ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس بابر ستار انہوں نے کہا چیف جسٹس ججوں کو ستار نے کورٹ کے

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ