امریکا: عدالت نے گوگل کے کروم اور اینڈرائیڈ کے بیچنے پر پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
امریکی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ گوگل کو اپنے کروم براؤزر یا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو فروخت یا تقسیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے کے بعد گوگل کمپنی الفابیٹ کے شیئرز میں قریباً 8 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی قیمت $211.35 تک پہنچ گئی، جس سے مارکیٹ میں 150 بلین ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: اینٹی ٹرسٹ کیس میں گوگل بڑی کارروائی سے بچ گیا
عدالت نے کہا کہ کروم یا اینڈرائیڈ کی فروخت سے مقابلے میں اضافہ نہیں ہوگا اور صارفین و ڈیوائس مینوفیکچررز پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، گوگل کو بعض عملی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے دیگر سرچ انجنز کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنا اور ڈیوائس مینوفیکچررز پر پابند معاہدے ختم کرنا تاکہ مارکیٹ میں مقابلہ بہتر ہو سکے۔
مزید پڑھیں: جیمینی دستاویزات پڑھ کر صارفین کو سنائے گی، گوگل ڈاکس کا اہم فیچر متعارف
اس فیصلے سے گوگل اپنے اہم پلیٹ فارمز برقرار رکھتے ہوئے بھی محدود ریگولیٹری پابندیوں کے تحت کام کرے گا، جبکہ سرمایہ کاروں نے اس فیصلے کو کمپنی کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کروم براؤزر گوگل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم گوگل
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔