اسلام آباد:

الیکشن کمیشن نے ڈی ایم او کے فیصلے کے خلاف میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی اپیل بحال کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں ڈی ایم او کے فیصلے کے خلاف مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کیس کی کارروائی کی۔

سماعت کے دوران مرتضیٰ وہاب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی ایم او نے ہمیں سنے بغیر فیصلہ دیا اور کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔ الزام یہ لگایا گیا کہ الیکشن مہم کے دوران انہوں نے پریس کانفرنس کی، جس کے بعد ہماری اپیل بھی مسترد کر دی گئی تھی۔ وکیل نے استدعا کی کہ ہماری اپیل بحال کی جائے۔

الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ مرتضیٰ وہاب کی اپیل مقررہ وقت کے بعد دائر ہونے کی بنا پر مسترد کی گئی تھی۔ اس موقع پر ممبر پنجاب نے ریمارکس دیے کہ کمیشن نے متعدد بار آپ کو طلب کیا لیکن آپ پیش نہیں ہوئے۔

وکیل نے جواب دیا کہ گزشتہ ہفتے کراچی میں شدید بارشوں کے باعث ہم پیش نہیں ہو سکے تھے، جس پر ممبر پنجاب نے کہا کہ بارش تو اب ہوئی ہے، کمیشن آپ کو ایک سال سے بلا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپیل بحال کی گئی تو دوبارہ آپ 6 ماہ کے لیے غائب نہ ہو جائیں۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے مرتضیٰ وہاب کی اپیل بحال کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن اپیل بحال ڈی ایم او

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ