شبلی فراز اور کنول شوزب کی ای سی ایل سے نام نہ نکالنے پر توہین عدالت کی درخواستیں خارج
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
شبلی فراز اور کنول شوزب کی ای سی ایل سے نام نہ نکالنے پر توہین عدالت کی درخواستیں خارج WhatsAppFacebookTwitter 0 4 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نام سفری پابندی کی فہرست سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کی شبلی فراز اور کنول شوذب کی درخواستیں خارج کر دیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز اور کنول شوذب کے نام سفری پابندی کی فہرست سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کیسز کی سماعت ہوئی۔
دو بار کیس کال ہونے پر شبلی فراز اور کنول شوذب کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا جس کے باعث عدالت نے عدم پیروی پر درخواستیں خارج کر دیں۔
یاد رہے کہ شبلی فراز اور کنول شوذب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقدرتی آزمائشیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات گھر، فصلیں، دکانیں، بازار سب پانی کی نذر، گجرات میں 506 ملی میٹر بارش نے تباہی مچا دی ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما کا صوبہ پوٹھوہار کے قیام کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کنگ سلمان ریلیف کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین میں ایمرجنسی امدادی سامان کی تقسیم شہباز شریف کی چینی وزیراعظم سے ملاقات؛ سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون اہم موضوعات پنجاب: بارشوں اور سیلاب سے مزید سیکڑوں دیہات زیر آب، لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ پاکستانی کرکٹر حیدر علی کیخلاف ریپ کا الزام ثابت نہ ہوسکا، مانچسٹر پولیس نے کیس خارج کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شبلی فراز اور کنول شوذب درخواستیں خارج کی درخواستیں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔