سنہری لنگور کی نایاب جھلک، دنیا کا واحد جانور جو انسانوں سے دور رہتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
بھوٹان اور بھارت کی سرحدی جنگلات میں پایا جانے والا سنہری لنگور اپنی نایاب جھلک اور منفرد عادات کی وجہ سے ہمیشہ ماہرینِ حیوانات کے لیے معمہ رہا ہے۔
حال ہی میں فوٹوگرافروں کو اس جانور کی ایک غیر معمولی قریبی تصویر لینے کا موقع ملا، جو قدرتی حیات کے شوقین افراد کے لیے کسی سنسنی سے کم نہیں۔
سنہری لنگور دنیا کے ان چند پرندوں اور جانوروں میں شمار ہوتا ہے جو شعوری طور پر انسانوں سے دور رہتے ہیں۔ اس کی زریں کھال دھوپ میں جگمگاتی ہے اور یہ عام طور پر گھنے درختوں میں چھپ کر رہتا ہے تاکہ انسانی نظروں سے بچ سکے۔
مزید پڑھیں: بھارت سے سرحد عبور کرکے آنے والا لنگور بہاول نگر میں پکڑا گیا
ماہرین کے مطابق یہ نایاب منظر اس بات کی یاددہانی ہے کہ فطرت اب بھی اپنے راز چھپائے ہوئے ہے اور جنگلی حیات کو محفوظ رکھنے کی ضرورت دن بدن بڑھ رہی ہے۔
A rare close-up of the elusive Golden Langur, one of the only known species that actively avoids humans pic.
— Curiosity (@MAstronomers) September 4, 2025
سنہری لنگور کی سب سے نمایاں پہچان اس کی زریں کھال ہے جو سورج کی روشنی میں کسی قیمتی دھات کی طرح چمکتی ہے۔ بڑی شفیق آنکھیں اور نرم سنہری بال اسے افسانوی کردار کی صورت دیتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسے قریب سے دیکھ لینا کسی خوش نصیبی سے کم نہیں۔
یہ لنگور بنیادی طور پر بھوٹان اور بھارت کے شمال مشرقی علاقے (آسام و اروناچل پردیش) کے گھنے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ اس کا قدرتی مسکن بانس اور دوسرے اونچے درخت ہیں جہاں یہ اپنے خاندان کے ساتھ جھرمٹ میں رہتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت سے سرحد پار کرکے پاکستان آنے والا لنگور پنجرے سے فرار
ماہرین کے مطابق انسانوں سے دوری کا رویہ ارتقائی دفاعی عمل ہے تاکہ شکار اور انسانی مداخلت سے بچ سکے۔ یہی عادت اسے دنیا کے ان چند جانداروں میں شامل کرتی ہے جو جان بوجھ کر انسان سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے سنہری لنگور کی آبادی تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ جنگلات کی کٹائی، انسانی توسیع اور غیر قانونی شکار اس کے وجود کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ عالمی ادارۂ تحفظِ فطرت (IUCN) نے اسے Endangered Species کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں اس کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں۔
مزید پڑھیں: ایک کردار جو بھارت کے لیے ہمیشہ بدشگون رہا
بھوٹان اور بھارت دونوں نے اس نایاب جاندار کے لیے مخصوص وائلڈ لائف سینکچوریز قائم کر رکھی ہیں۔ مقامی کمیونٹیز کو بھی شعور دلایا جا رہا ہے تاکہ وہ اس سنہری خزانے کو نقصان نہ پہنچائیں۔
بین الاقوامی ادارے زور دیتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اس سنہری کرشمے کو صرف تصویروں اور کتابوں میں ہی دیکھ سکیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Endangered Species IUCN بھارت بھوٹان سرحدی جنگلات سنہری لنگور نایاب جھلک واحد بندر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھوٹان سرحدی جنگلات سنہری لنگور واحد بندر سنہری لنگور کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔