تحریکِ تحفظِ آئین ِ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا  ۔
 درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا  کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی دفعہ 2(2) کے تحت فل کورٹ کی تشکیل کا فیصلہ مکمل طور پر قانون کے مطابق تھا، اور اسے رجسٹرار یا کسی اور انتظامی اتھارٹی کی جانب سے ختم یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
  درخواست گزار نے یہ مؤقف بھی اپنایا ہے کہ چیف جسٹس کی طرف سے کمیٹی کے فیصلے پر دی گئی وضاحت کو قانونی عملدرآمد سے روکنے کی کوئی آئینی یا قانونی حیثیت نہیں، اور یہ ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور قانونی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
  درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی   کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے 31 اکتوبر کے اکثریتی فیصلے پر عملدرآمد کروایا جائے، اور اس فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے سے متعلق انتظامی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
 واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے 26ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
یہ کیس نہ صرف آئینی ترامیم کی نوعیت پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ عدالتی خودمختاری اور قانون سازی کے دائرہ کار پر بھی ایک نئی بحث چھیڑتا ہے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن