WE News:
2026-06-03@08:21:24 GMT

کیموتھراپی کے دوران بال جھڑنے سے بچاؤ کے لیے جیل تیار

اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT

کیموتھراپی کے دوران بال جھڑنے سے بچاؤ کے لیے جیل تیار

امریکہ کی مِشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک نیا شیمپو نما جیل تیار کیا ہے جو کیموتھراپی کے عام اور تکلیف دہ ضمنی اثر — بال جھڑنے — سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لیموں کیمو تھراپی سے 10 ہزار گنا زیادہ پُراثر کیوں؟

یہ جیل ابتدائی طور پر جانوروں پر آزمایا گیا ہے اور خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ علاج شروع ہونے سے پہلے اسے سر کی جلد پر لگایا جائے اور کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیا جائے تاکہ جب دوا جسم میں گردش کرے تو بالوں کی جڑوں کو زیادہ نقصان نہ پہنچے۔

اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر برائن اسمتھ، جو انسٹیٹیوٹ فار کوانٹیٹیو ہیلتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، نے کہا ’کیموتھراپی سے ہونے والے بالوں کے جھڑنے کا مسئلہ میرے لیے اس لیے اہم ہوا کیونکہ یہ کینسر کے مریضوں کے معیارِ زندگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ بہتر تشخیص اور علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی اس تکلیف کا حل بھی بہت ضروری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: لیموں کیمو تھراپی سے 10 ہزار گنا زیادہ پُراثر کیوں؟

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ خیال انہیں اس وقت آیا جب انہوں نے آنکولوجسٹ اور سابقہ مریضوں سے اس مسئلے پر بات کی۔

جیل کی خصوصیات

یہ پانی پر مبنی جیل ہے جو بالوں کی جڑوں (Hair Follicles) کو محفوظ رکھنے میں مؤثر پایا گیا ہے۔

اس میں لڈوکین اور ایڈرینالون شامل ہیں جو سر کی جلد تک خون کی روانی کو محدود کرتے ہیں، جس سے بال جھڑنے سے بچاؤ ہوتا ہے۔

جیل کا ٹیکسچر درجہ حرارت کے مطابق بدلتا ہے؛ یہ جسم کے درجہ حرارت پر گاڑھا ہوجاتا ہے جبکہ ٹھنڈک پر پتلا۔

تحقیق کا موجودہ مرحلہ

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور انسانوں پر اس کا کلینیکل ٹرائل باقی ہے۔ تاہم اگر یہ کامیاب رہا تو کینسر کے مریضوں کے لیے کیموتھراپی کے دوران زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا انسٹیٹیوٹ فار کوانٹیٹیو ہیلتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ بال گرنا تحقیق جیل شیمپو کیمو تھراپی کینسر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بال گرنا جیل شیمپو کیمو تھراپی کینسر کے لیے

پڑھیں:

ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل

مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔

دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف

ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔

بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔

پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شاہ چارلس کے کینسر کا علاج جاری، شہزادہ ولیم نے ’شیڈو کنگ‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں
  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، گرمی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کی پیشگوئی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار