سیلابی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سندھ میں ایمرجنسی الرٹ ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
کراچی:
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیلابی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور صورت حال کے پیش نظر سندھ میں ایمرجنسی الرٹ ہے۔
اپنے بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے دریاؤں اور بیراجوں میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی بیشی کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت سندھ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ پانی کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام متعلقہ ادارے مکمل الرٹ ہیں جب کہ گڈو، سکھر، کوٹری اور مرالہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجند بیراج پر پانی کا ان فلو اور آؤٹ فلو 310,479 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، گڈو بیراج میں ان فلو 359,570 کیوسک اور آؤٹ فلو 327,481 کیوسک ہے، جب کہ سکھر بیراج میں ان فلو 331,155 کیوسک ہے جس میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور آؤٹ فلو 277,355 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر کچے کے علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14,430 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ اب تک 109,320 افراد محفوظ مقامات تک پہنچائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 346,282 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں اور 754,527 سے زائد مویشیوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے 169 طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6,890 افراد کو طبی امداد دی گئی جبکہ مجموعی طور پر 27,801 افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں کمی بیشی کے باوجود سیلابی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے حکومت سندھ نے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنائے ہیں اور صوبائی حکومت پنجاب سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔