ہم فوج کے دشمن ہیں نہ ریاستی اداروں کیخلاف مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں، فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم فوج کے دشمن ہیں نہ ریاستی اداروں کیخلاف مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں۔
ڈی آئی خان میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا میں صرف گورننس کا بحران نہیں بلکہ یہاں حکومت کا وجود ہی بے معنی ہو چکا ہے۔ حکومت نے شہریوں کو حالات کے رحم پہ کرم پہ چھوڑ دیا، لیکن ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے کے عوام نے قیام امن کی خاطر ریاستی اداروں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے ہیں۔ باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان تک لاکھوں لوگوں نے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر نقل مکانی کی صعوبتیں جھیلی ہیں۔ سکیورٹی اداروں سے تعاون کی خاطر ہزاروں خاندان پشاور سے لے کر کراچی تک ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ شومئی قسمت کہ عوام کی طرف سے لازوال قربانیوں کے باوجود آج تک پختون خوا کے لوگوں کو امن نہ مل سکا۔ ریاست شہریوں کو جان و مال اور عزت کا تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے ۔ ریاست کے پاس شہریوں کو تحفظ اور امن دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے لیکن شہریوں کی بقا کو نظر اندازکیاجارہاہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ طرز عمل ملک بلکہ خود فوج کے اپنے مفاد بھی نہیں ہو گا۔ ہم فوج کے دشمن نہیں اور نہ ہی ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کے حامی ہیں۔ ہم فوج کے سیاسی کردار اور ان پالیسیوں کے ناقد ہیں، جن سے بطور سیاستدان اور اس ملک کے شہری کی حیثیت سے ہم براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کے دلوں میں دفاعی اداروں کی عزت ہو ، لوگ ان سے محبت کریں۔ ہم سب باہم ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر معاشرہ ،سیاسی جماعتیں اور آئینی نظام کمزور ہوا تو فوج بھی کمزور ہو جائے گی۔ اگر دفاع کمزور ہوا تو ملک ،عوام ،سیاست دان اور سیاسی نظام سب کچھ اجڑ جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریاستی اداروں فضل الرحمان ہم فوج کے نے کہا
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔