حوثیوں نے اقوام متحدہ کے 11 اہلکاروں کو جاسوسی کے شبے میں گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
یمن میں سرگرم حوثی گروپ نے اقوام متحدہ سے وابستہ 11 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان پر امریکا اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں حوثی حکومت کے وزیرِاعظم اور کابینہ کے 9 وزرا ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد حوثی قیادت نے سیکیورٹی کریک ڈاؤن شروع کیا، جس میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
حوثی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ان اہلکاروں کودشمن قوتوں کے ساتھ تعاون اورجارحیت میں سہولت کاری جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان افراد پر امریکا اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کا شبہ ہے۔ابھی تک اقوام متحدہ یا متعلقہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔