کراچی:

وزیر اعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان ملاقات میں کراچی تا سکھر 6 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے مسافر ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی اپنے وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے وزیر ریلوے حنیف عباسی کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کافی عرصے کے بعد ریلوے کی آنرشپ نظر آ رہی ہے۔

ملاقات میں سینئر وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور توانائی ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بدلدیات، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شام، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، کمشنر کراچی، ایم ڈی (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) نجیب اللہ قریشی اور دیگر شریک ہوئے۔

وفاقی وزیر کے وفد میں سیکریٹری ریلویز مظہر علی شاہ، سینئر جنرل مینیجر ریلویز عامر علی بلوچ، ایڈیشنل جنرل مینجر انفراسٹرکچر حماد حسن، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی محمود رحمان لاکھو اور ڈائریکٹر وفاقی وزیر ریلویز اشفاق احمد شریک ہوئے۔

اجلاس میں کراچی تا روہڑی تک ریلوے لائن کو 6 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے اَپ گریڈ کر کے اَپ ڈاؤن ٹرین چلانے کا فیصلہ ہوا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی تا روہڑی ٹرین اَپ ڈاؤن چلائی جائے تو عوام کو سہولت ہوگی، سندھ حکومت پاک ریلوے کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ سندھ حکومت بھی ریلوے کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرے گی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی تا سکھر کل 480 کلو میٹرز کا فاصلہ ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ تمام ریلوے لائنز نئی بچھائی جائیں گی، کراچی تا روہڑی ٹرین میں ایئر کنڈیشن کے ساتھ بہترین سہولیات فراہم کریں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم ایل ون کیماڑی سے شروع ہو رہا ہے جس کی اَپ گریڈیشن ہو رہی ہے۔ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کینٹ اسٹیشن کی سڑک 2018ء میں نئی بنائی تھی۔

صفائی ستھرائی

اجلاس میں کراچی کینٹ اور سٹی اسٹیشن کی صفائی ستھرائی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو دینے کا فیصلہ ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزارت ریلوے سندھ حکومت کے ساتھ معاہدہ کرے، جس پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔

سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کراچی کینٹ اور سٹی اسٹیشن کی صفائی ستھرائی کرے گی۔ کراچی کینٹ اسٹیشن کی واشنگ لائنز بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو دینے جبکہ سندھ میں اہم ریلوے اسٹیشنز کی تزئین و آرائش کے لیے سندھ حکومت سے تعاون پر بات چیت کی گئی۔

تجاوزات اور آؤٹ سورس

ریلوے کی اراضی اور ریلوے اسٹیشنز سے تجاوزات ہٹانے پر سندھ حکومت نے تعاون جاری رکھنے پر بات چیت کی۔ اجلاس میں ریلوے لائن کے قریب تجاوزات کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر ریلوے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سارے کام آؤٹ سورس کرنے سے سروس بہتر ہوگی۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاک ریلوے کی تمام سہولیات آؤٹ سورس کر رہے ہیں۔

سرکلر ریلوے

وزیراعلی سندھ اور وزیر ریلوے نے کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق بات چیت بھی کی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے شہر کی اشد ضرورت ہے، کے سی آر پروجیکٹ میں بہت تاخیر ہوگئی ہے۔

مراد علی شاہ نے تجویز دی کہ سندھ حکومت اور پاکستان ریلوے مل کر کے سی آر بنائے، ڈونر ایجنسیز اور پرائیوٹ سیکٹر کو بھی منصوبے میں شامل کیا جائے۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے تجاویز کو سراہا اور مکمل حمایت کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ سندھ حکومت اور وزارت ریلوے کے ماہرین بیٹھ کر منصوبے کو حتمی شکل دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر ریلوے حنیف عباسی صفائی ستھرائی ویسٹ مینجمنٹ سندھ حکومت وفاقی وزیر اجلاس میں اسٹیشن کی ریلوے کے کا فیصلہ کیا گیا علی شاہ کہ سندھ کے ساتھ بات چیت گیا کہ کہا کہ

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی