راولپنڈی می غیر مسلموں کی جانب سے بھی عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
راولپنڈی میں غیر مسلم پاکستانیوں کی جانب سے عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس نکالا گیا۔
راولپنڈی کی قدیم یونین کونسل سہال چکری روڈ میں 51 سالہ قدیم ہندو،سکھ، پارسی اور کرسچن مقررہ راستوں سے ہوتا نماز مغرب کے وقت اختتام پزیر ہوگیا۔
میلاد جلوس میں مسلم اقلیتوں کے اتحاد کا لازوال شاندار مظاہرہ کیا گیا، جس پر سب عش عش کر اٹھے۔
1500 سالہ جشن میلاد ہندو، پارسی، کرسچن، سکھ مسلم اتحاد کا شاندار اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا، سہال بازار دکانوں گھروں کو خوبصورتی سے دلہن طرح سجایا گیا۔
سکھ کمیونٹی قائد سردار ویندر سنگھ جگی قیادت میں سکھ برادری شریک ہوئی، جبکہ مسیحی رہنما جبران گل، پاردی الیاس قریشی قیادت میں کرسچن کمیونٹی شریک ہوئی۔
اس کے علاوہ ہندو شرکا کی قیادت اوم پرکاش نرائن اور پارسی برادری کی نمائندگی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اسفن یار بھنڈارا نے کی۔
پانچوں برادریوں کا ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آمنہ کے لعل کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ سکھ ہندو پارسی مسیحی رہنماؤں نے کہا کہ محمد مصطفیﷺ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ رحمت اللعالمین اور تمام جہانوں کے مسیحا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ بڑی شان والے ہیں، تمام برادریوں نے جشن میلاد کے نعرے لگائے میلاد کمیٹیاں بڑی تعداد بھی شریک تھی،جلوس میں نعت خوانی درود پاک کی صدائیں گونجتی رہیں۔
سکھ رہنما سردار ویندر سنگھ نے کہا اسلام امن بھائی چارے کا درس دیتا ہے ہر سال شریک ہوں گے۔
ہندو لیڈر اوم پرکاش نرائن کا کہنا تھا پاکستان میں اقلیتی محفوظ ہیں مکمل تحفظ حاصل ہے۔
مسیحی رہنما جبران مسیح اور پادری الیاس نے کہا کہ تمام مذاہب کی 1500 سالہ جشن میلاد میں شرکت سے بھائی چارہ کی فضا میں اضافہ ہوگا۔
شہری شمع رسالت پروانے جلوس پر چھتوں سے گل پاشی عرق گلاب چھڑکاؤ کرتے رہے، جلوس راستہ میں دودھ مشروب کی سبیلیں لنگر بھی تقسیم ہوتا رہا۔ پولیس نے سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔