کراچی میں جلوس کیلیے لگائے گئے استقبالیہ کیمپ کے قریب سے اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے گزری پی این ٹی کالونی میں سڑک کی صفائی کے دوران فٹ پاتھ پر لگائے گئے استقبالیہ کیمپ کے قریب شاپنگ بیگ سے اسلحہ برٓمد ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گزری میں عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کیلیے لگائے گئے استقبالیہ کیمپ کے قریب سے اسلحے سے بھرا شاپنگ بیگ برآمد ہوا۔
اسلحہ برآمدگی کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاوارث حالت میں ملنے والا پستول اور میگزین اپنے قبضے میں لے لیا۔
اس حوالے سے ایس ایچ او گزری اصغر علی کانگو نے بتایا کہ پی این ٹی کالونی سی بی سی کا عملہ صفائی کے دوران سڑک پر جمع کچرا اٹھا رہا تھا کہ انھیں فٹ پر لگے ہوئے ٹینٹ کی قناعت کے قریب سفید رنگ کا شاپر دکھائی دیا۔
انہوں نے کہا کہ صفائی کرنے والوں نے وہاں موجود سبزی والے اور دیگر افراد سے معلوم کیا کہ جس کا ہے اٹھا لے لیکن کسی نے بھی شاپر کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا اس دوران صفائی کرنے والے سی بی سی کے عملے نے شاپر چیک کیا تو اس میں اسلحہ دکھائی دیا جس پر فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا گیا۔
اصغر کانگو نے بتایا کہ شاپر سے ملنے والا نائن ایم ایم پستول چند روز قبل پی این ٹی کالونی میں جھگڑے کے دوران کی جانے والی فائرنگ کا تسلسل ہے جسے پولیس کے خوف سے پھینکا گیا تھا جو کہ لوڈ تھا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اسلحہ ہفتے کو صبح سوا نو بجے کے قریب ملا تھا اور اس کا وہاں سے گزرنے والے کسی جلوس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے قریب
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔