1990 کی دہائی میں کی گئی ماحولیاتی پیش گوئیاں درست ثابت، سیٹلائٹ تصاویر سے بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
ماہرین کے مطابق 1990 کی دہائی میں پیش کیے گئے ماحولیاتی ماڈلز نے سمندری سطح کے بڑھنے کی جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوئی ہیں۔
1996 کی آئی پی سی سی رپورٹ نے 30 سال میں سمندر کی سطح کے تقریباً 8 سینٹی میٹر بڑھنے کی پیش گوئی کی تھی جو حقیقی 9 سینٹی میٹر کے قریب ہے۔ تاہم رپورٹ نے برفانی چادروں کے پگھلنے کا اندازہ ایک انچ کم لگایا تھا۔ آج یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر انٹارکٹیکا میں برفانی چادریں اچانک ٹوٹ گئیں تو امریکا سمیت ساحلی علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک ذمہ دار ریاستوں سے ہرجانے کے حقدار ہیں، عالمی عدالت انصاف کا اہم فیصلہ
سیٹلائٹ نگرانی کا آغاز 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوا جس سے پتا چلا کہ اوسطاً ہر سال سمندری سطح ایک آٹھواں انچ بڑھ رہی ہے۔ حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پچھلے 30 برس میں سمندر کی سطح کے بڑھنے کی رفتار دوگنی ہو گئی ہے۔
یہ تحقیق تولین یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے جسے امریکی جیوفزیکل یونین کے اوپن ایکسیس جرنل ارتھز فیوچر میں شائع کیا گیا۔
تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر ٹوربیورن ٹورنکوسٹ کا کہنا ہے کہ حقیقی جانچ اس وقت ممکن ہوتی ہے جب دہائیوں پر محیط مشاہدات دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے ماڈلز آج کے جدید سسٹمز کے مقابلے میں بہت سادہ تھے مگر اس کے باوجود نتائج حقیقت سے قریب تر نکلے۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کو سائنس دان کئی دہائیوں سے صحیح انداز میں سمجھتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: گلوبل وارمنگ کے باعث امریکا، یورپ اور ایشیا ہیٹ ویو کی زد پر
ساتھی محقق پروفیسر سونکے ڈینگنڈورف نے کہا کہ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ عالمی سطح کی معلومات کو خطے کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری سطح یکساں نہیں بڑھتی بلکہ مختلف خطوں میں فرق ہوتا ہے، اس کے لیے ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور نیشنل اوشنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے پروگرام نہایت اہم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔