80 کی دہائی کی مقبول اداکارہ سلمی آغا اب کہاں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
80 کی دہائی کی بالی ووڈ کی سب سے مقبول اداکارہ سلمی آغا کی زندگی فلمی کیریئر کی کامیابیوں سے تو بھرپور رہی، لیکن ذاتی زندگی نے انہیں کئی صدمے دیے۔ چار محبتیں، تین شادیاں اور دو طلاقیں برداشت کرنے کے بعد، آج 68 سال کی عمر میں وہ تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔
سلمی آغا ان اداکاراوں میں شمار کی جاتی ہیں، جو اچانک آئیں شہرت کی بلندیوں کو چھوا اور پلک جھپکتے اسکرین سے غائب ہوگئیں ان کا فلمی کریئر انتہا ئی مختصررہا ، لیکن انہوں نے اس دور کے شہرت یافتہ ادا کاروں رشی کپور، راج ببر، راجیش کھنہ ، فیروز خان اور متھن چکرورتی کے ساتھ کام کیا ۔
باصلاحیت اداکارہ سے لوگوں کو کافی امیدیں تھیں، لیکن افسوس سلمی آغا نے لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور پھر عشق و محبت کے چکر نے ان کے کیریئر کو دھیرے دھیرے ختم کردیا۔
سلمی آغا نے 1982 میں ریلیز ہونے والی فلم ’نکاح‘ سے اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز کیا۔ ڈیبیو فلم نکاح کا ’دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے‘ گانا گاکر راتوں رات اسٹار بن گئی تھیں۔ فلم کے ساتھ ہی ان کا یہ گانا بھی سپرہٹ ہوا تھا۔ اس طرح 17 سال کی عمر میں ہی وہ بالی ووڈ کی اسٹار بن گئی تھیں ۔ انہوں نے ہندی اور پاکستانی دونوں فلموں میں کام کیا، جن میں قسم پیدا کرنے والے کی، بوبی، اونچے لوگ، کوبرا، پھولن دیوی اور پتی پتنی اور طوائف شامل ہیں۔
سلمی بالی ووڈ میں اپنی خوبصورتی اور حسن کے لئے مشہور رہی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے ڈیبیو کے وقت ان کی کشش قابل دید تھی اور ان کی خوبصورتی کو دیکھ کرپروڈیوسر انہیں فلموں میں لینے کیلئے بے تاب رہتے تھے ۔
سلمی آغا نے اداکاری کے علاوہ گائیکی کے ذریعے بھی اپنی پہچان بنائی اور کئی فلمی گانوں کے لیے ایوارڈز حاصل کیے۔ ان کی منفرد آواز اور اداکاری نے انہیں ان دنوں کے فینز کے دلوں میں امر کر دیا۔
سلمی آغا کی ذاتی زندگی اتنی ہلچل انگیز رہی جتنی ان کا کیریئر۔ 1980 کی دہائی میں وہ لندن کے بزنس مین ایاز سپرا کے ساتھ تعلق میں تھیں، لیکن شادی نہ ہو سکی۔ ان کی پہلی شادی پاکستان کے مشہور اداکار جاوید شیخ سے ہوئی، جو کچھ سال بعد طلاق پر ختم ہوئی۔ پھر انہوں نے اسکوائش کھلاڑی رحمت خان سے شادی کی، جو 2010 میں ختم ہو گئی۔ آخر میں انہوں نے 2011 میں دبئی کے بزنس مین منظر شاہ سے شادی کی، جس سے ان کی بیٹی پیدا ہوئی۔ تاہم، منظر شاہ دبئی میں رہتے ہیں اور سلمی ممبئی میں اپنی بیٹی کے ساتھ تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔
سلمی آغا کا تعلق کراچی، پاکستان سے ہے۔ ان کے والد لیاقت گل تاجک کا قیمتی پتھروں اور اینٹیکس کا کاروبار تھا، جبکہ والدہ نسرین ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ نسرین کے والد رفیق غزنوی مشہور پشتون موسیقار تھے اور والدہ انواری بائی بیگم 1930 کی دہائی کی مشہور اداکارہ تھیں۔ بعد ازاں نسرین کی شادی جُگال کیشور مہرا سے ہوئی، جو راج کپور کے ماموں تھے، اس طرح سلمی کا تعلق کپور خاندان سے بھی جڑ گیا۔
سلمی آغا اب ممبئی میں رہتی ہیں اور فلموں کی پروڈکشن اور پروڈیوسنگ میں مصروف ہیں، جبکہ ان کی بیٹی زارا بھی بالی ووڈ میں قدم رکھ چکی ہیں۔ 2016 میں انہیں ہندوستانی شہریت ملی۔
سلمی آغا کی زندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلمی شہرت اور محبت میں کامیابی کے باوجود، ذاتی زندگی میں انسان کو شدید چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کی دہائی بالی ووڈ کے ساتھ
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور