یوم فضائیہ 7 ستمبر ، جب پاکستان کے شاہینوں نے دشمن کی فضائی قوت کو ناکام بنایا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
یوم فضائیہ 7 ستمبر ، جب پاکستان کے شاہینوں نے دشمن کی فضائی قوت کو ناکام بنایا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
ملک بھر میں آج یوم فضائیہ کا دن جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جو 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی بے مثال جرات اور مہارت کی یادگار ہے۔
یوم پاک فضائیہ کے موقع پر پاکستان ایئر فورس کے دستے آج شہید راشد منہاس کی قبر پر حاضری دیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گے جبکہ سلامی بھی پیش کی جائے گی۔
یہ دن دفاع وطن کے ان عظیم فضائی معرکوں کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن پر بھرپور غلبہ حاصل کیا اور اپنی بے مثال کارکردگی سے وطن کی فضائی حدود کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
1965 کی جنگ کے دوران پاک فضائیہ نے دشمن کے کئی فضائی اڈے تباہ کیے اور اپنی تعداد کے لحاظ سے کہیں بڑی بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا۔
پاک فضائیہ نے 6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان کے ساتھ 7 ستمبر کو اپنی جرات، مہارت اور بہادری کی تاریخ رقم کی۔ اس دن کا سب سے شاندار کارنامہ اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کا تھا، جنہوں نے اپنے جنگی طیارے سے صرف چند منٹوں کے اندر دشمن کے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔
سات ستمبر 1965 کو سرگودھا کے محاذ پر اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) نے دشمن کے پانچ بھارتی ہنٹر طیارے مار گرائے۔ ان میں سے چار طیارے صرف 30 سیکنڈ کے اندر گرائے گئے، جو آج بھی دنیا کی فضائی جنگی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
ایم ایم عالم کا یہ کارنامہ پاکستان ایئر فورس کو دنیا کی بہترین فضائیہ کے طور پر منوانے میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔
جنگ کے آغاز میں ہی پاک فضائیہ نے بھارتی ایئر بیس پٹھانکوٹ، ہلواڑہ اور جمنا نگر پر کامیاب حملے کیے جس سے بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان ہوا۔
لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر پاک فضائیہ نے زمینی افواج کو فضائی مدد فراہم کی اور بھارتی حملے کو پسپا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
پاک فضائیہ کے پائلٹس کی جرات اور مہارت نے دشمن کے جدید طیاروں کو تباہ کیا، حالانکہ بھارتی فضائیہ کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔
7 ستمبر کا دن قوم کو یہ یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کے محافظ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ہر وقت ملک کے دفاع کے لیے تیار رہتے ہیں۔
یہ دن پاکستان کے فضائی دفاعی محاذ پر ہونے والی قربانیوں اور کامیابیوں کا غماز ہے، جو پاکستانی قوم کی قوتِ ارادی اور عزم کا مظہر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ میں بدترین اسرائیلی مظالم جاری، ہرگھنٹے ایک بچہ شہید ہونے کا انکشاف نبی کریم ﷺ کی ولادت کے 1500 سال مکمل ہونے پر جشن، فضائیں درود و سلام سے معطر بھارتی آبی جارحیت جاری؛ دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، چناب اور راوی کی بھی سطح بلند سیلاب متاثرین کیلئے امریکا کی جانب سے امدادی سامان پاکستان پہنچ گیا نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کا یومِ ولادت مذہبی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے ڈریپ، ڈائریکٹوریٹ کوالٹی کنٹرول اور ایف آئی اے کراچی کا جوائنٹ آپریشن، بڑی تعداد میں نان رجسٹرڈ اور جعلی ادویات پکڑائی گئیں، تفصیلات و... ملک میں سیلابی صورتحال، وفاقی حکومت کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کے کی فضائی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔