وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موبائل سمز کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق خبر پر نوٹس لے لیا۔

وزیر داخلہ کی ہدایت پر نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی متحرک ہوگئی اور ایک خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاست مخالف مہم اور حساس سرکاری ڈیٹا لیک کرنے کا الزام، ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم ڈیٹا لیکج کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی اور اس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ تشکیل دی گئی ٹیم 14 روز میں اپنی رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ پر وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور اہم حکومتی شخصیات سمیت ہزاروں پاکستانی شہریوں کا حساس ڈیٹا فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

آن لائن پلیٹ فارمز پر موبائل سم مالکان کے پتے، کال ریکارڈز، شناختی کارڈ کی نقول اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات جیسی انتہائی حساس معلومات معمولی قیمت پر دستیاب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خبردار! محض ایک واٹس ایپ کال کیسے آپ کی بینک تفصیلات کو لیک کرسکتی ہے؟

رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ سے لے کر پی ٹی اے کے ترجمان تک قریباً ہر شخص کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر باآسانی خریدا جا سکتا ہے اور یہ تمام ریکارڈز گوگل سرچ کے ذریعے بھی دستیاب ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تحقیقاتی کمیٹی تشکیل محسن نقوی موبائل سمز ڈیٹا لیک وفاقی وزیر داخلہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تحقیقاتی کمیٹی تشکیل محسن نقوی موبائل سمز ڈیٹا لیک وفاقی وزیر داخلہ وی نیوز وزیر داخلہ ڈیٹا لیک

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف