سندھ میں ممکنہ شدید بارشیں: صدر مملکت نے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
صدر آصف علی زرداری نے سندھ میں متوقع شدید بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو فوری الرٹ رہنے اور عوام کی حفاظت کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ۔
صدرمملکت نے ہدایت کی کہ صوبائی، ضلعی اور بلدیاتی سطح پر تمام ادارے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری میں رہیں۔ خاص طور پر نشیبی اور ساحلی علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
ریلیف مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ہر ضلع اور تحصیل میں ریلیف مشینری اور عملہ ہمہ وقت مستعد رہے، جب کہ حب ڈیم سمیت تمام آبی ذخائر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اور مقامی انتظامیہ عوامی آگاہی مہم میں کلیدی کردار ادا کریں اور شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ترغیب دیں۔
این ڈی ایم اے کی وارننگ: سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب خطرے کی زد میں
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی ریاستوں گجرات اور راجستھان کے قریب موجود بارش برسانے والا موسمی نظام، پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو متاثر کر سکتا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق یہ بارشیں 10 ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہیں۔ کوہِ سلیمان اور جنوبی پنجاب میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا بھی خطرہ موجود ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز اور مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بروقت امداد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطرے سے دوچار علاقوں میں پیشگی اطلاعات، پائیدار انفراسٹرکچر اور مربوط نظام کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
احتیاطی ہدایات برائے عوام
نشیبی علاقوں سے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں
سرکاری ہدایات پر عمل کریں
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ یا ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔