پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار، 50 اموات، 42 لاکھ لوگ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال تاحال برقرار ہے، سیلاب سے حادثات میں 50 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 42 لاکھ سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریاؤں میں شدید سیلابی صورت حال کے باعث صوبے کے 4100 سے زائد موضع جات جبکہ مجموعی طور پر 42 لاکھ 25 ہزار افراد متاثر ہوئے، ان میں سے 20 لاکھ 14 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 423 ریلیف کیمپس، 512 میڈیکل کیمپس اور 432 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کے دوران 15 لاکھ 11 ہزار جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کا منگلا ڈیم 87 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد جب کہ انڈیا کے بھاکڑا ڈیم 90 فیصد، پونگ ڈیم 99 فیصد اور تھین ڈیم 97 فیصد تک بھر چکے ہیں۔
بارش کے نئے سپیل سے بھارتی ڈیموں سے مزید پانی کے اخراج کا خدشہ ہے۔
دوسری طرف پنجاب کے شہر چشتیاں میں کے کمران گاؤں میں سیلابی پانی کے ایک عارضی حفاظتی بند کو توڑنے کی کوشش میں پولیس نے 17 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
بہاولنگر کے ستلج بیلٹ کے 160 کلومیٹر طویل علاقے میں مقامی افراد کی جانب سے مختلف مقامات پر بنائے گئے کئی عارضی بند ٹوٹ گئے ہیں، جس کے باعث ہزاروں ایکڑ زمین زیرِ آب آگئی ہے اور منچن آباد، بہاولنگر اور چشتیاں کے درجنوں دیہات متاثر ہوئے ہیں جو شہروں سے کٹ چکے ہیں۔
ملتان سے گزرنے والا دریائے چناب کا سیلاب تحصیل شجاع آباد اور تحصیل جلالپور میں تباہی مچاتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے، 2 دریاؤں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ضلع ملتان میں سب سے زیادہ نقصانات تحصیل جلال پور پیر والہ میں ہوئے جہاں 50 سے زائد مواضعات متاثر ہو ئے ہیں۔
محکمہ انہار کے مطابق شہر کو بچانے کے لئے 8کلومیٹر لمبا عارضی بند تیزی سے بنایا جا رہا ہے۔
ملتان اکبر فلڈ بند اور شیر شاہ فلڈ بند پر پانی کے بہاؤ میں وقتی طور پر کچھ کمی آ گئی ہے، 48 گھنٹے سے پانی کی سطح 394 فٹ پر موجود ہے، شیر شاہ فلڈ بند کو مزید مضبوط بنانے کےلیے بند پر مسلسل مٹی ڈالنے کا عمل جاری ہے۔
ادھر ہیڈ پنجند پر بھی اونچے درجےکا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 70 ہزار کے قریب پہنچ گیا، چنیوٹ کے مقام پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
علی پور میں سپر بند کے ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
بہاولنگر میں سیلاب کی شدت نے 143 دیہات کو زیر آب کر دیا ہے اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے، اس علاقے میں سیلاب نے گھروں، فصلوں اور دیگر ضروریات زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، لیکن اس کے باوجود اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جس سے مزید علاقوں میں پانی کی آمد کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی دوران دریائے راوی کے مائی صفوراں بند سے نکلنے والے سیلابی ریلے نے کبیروالا کے 40 دیہات کو ڈبو دیا ہے، جس سے 80,000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں، سیلاب نے فصلوں، گھروں اور سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری طرف محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد بپھرا ریلا سندھ میں داخل ہوگیا ہے، ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، پنجند بیراج پر پانی میں 97 ہزار 706 کیوسک اضافہ ہوا ہے۔ آمد اور اخراج اس وقت 4 لاکھ 46 ہزار 820 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 5 لاکھ 8 ہزار 371 کیوسک ریکارڈ جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک ہے۔
ادھر سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سیہون میں دریائی پٹی کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی بندوں کی کمزور جگہوں پر کام جاری ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیراج پر پانی کیوسک ریکارڈ پانی کی آمد پر پانی کی میں سیلاب مقامات پر کا سیلاب متاثر ہو کے مطابق کیا گیا گئے ہیں گیا ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :